❮
❯
حدیث نمبر: 4082
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ بَكْرٍ ، ثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَدْخَلَنِي رَجُلٌ عَلَى ابْنَةِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَحَدَّثَتْنِي بِقِصَّةِ ثَابِتٍ .. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .. قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا ، وَتُقْتَلُ شَهِيدًا ، وَيُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ خَرَجَ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ ، قَالَ : فَلَمَّا لَقِيَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ عَلَيْهِمْ ، فَانْكَشَفُوا قَالَ : قَالَ لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ حَفَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حُفْرَةً ، فَحَمَلَ عَلَيْهِمَا الْقَوْمُ ، فَبَقِيَا يُقَاتِلَانِ حَتَّى قُتِلَا ، رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِمَا ، وَكَانَتْ عَلَى ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دِرْعٌ لَهُ نَفِيسَةٌ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَخَذَهَا ، فَبَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَائِمٌ ، إِذْ أَتَاهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَنَامِهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أُوصِيكَ بِوَصِيَّةٍ ، إِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ : هَذَا حُلْمٌ فَتُضَيِّعَهُ ، إِنِّي لَمَّا قُتِلْتُ أَمْسِ ، مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَخَذَ دِرْعِي ، وَمَنْزِلُهُ فِي أَقْصَى الْعَسْكَرِ ، وَعِنْدَ خِبَائِهِ فَرَسٌ يَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ ، وَقَدْ كَفَأَ عَلَى الدِّرْعِ بُرْمَةً ، وَجَعَلَ فَوْقَ الْبُرْمَةِ رَحْلًا ، فَأْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمُرْهُ أَنْ يَبْعَثَ إِلَى دِرْعِي فَيَأْخُذَهَا ، فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى خَلِيفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَكَذَا ، وَلِي مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَكَذَا ، وَفُلَانٌ رَقِيقِي عَتِيقٌ وَفُلَانٌ ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ : هَذَا حُلْمٌ فَتُضَيِّعَهُ .
فَأَتَى الرَّجُلُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ ، فَبَعَثَ إِلَيَّ الدِّرْعَ ، فَنَظَرَ إِلَى خِبَاءٍ فِي أَقْصَى الْعَسْكَرِ ، فَإِذَا عِنْدَهُ فَرَسٌ يَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ ، فَنَظَرَ فِي الْخِبَاءِ ، فَإِذَا لَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ ، فَدَخَلُوا وَرَفَعُوا الرَّحْلَ ، وَإِذَا تَحْتَهُ بُرْمَةٌ ، فَرَفَعُوهَا فَإِذَا الدِّرْعُ تَحْتَهَا ، فَأُتِيَ بِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَدَّثَ الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِرُؤْيَاهُ ، فَأَجَازَ وَصِيَّتَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ ، فَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ جُوِّزَتْ وَصِيَّتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ غَيْرَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

عطا خراسانی سے روایت ہے کہ وہ مدینہ منورہ آئے تو ایک شخص انہیں سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے پاس لے گیا، جنہوں نے انہیں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کا قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: ”بلکہ تم قابلِ ستائش زندگی گزارو گے، شہادت کا رتبہ پاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔“ پھر جب جنگِ یمامہ کا موقع آیا تو وہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسیلمہ کذاب کے خلاف (جہاد کے لیے) نکلے؛ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمانوں کا سامنا دشمن سے ہوا اور دشمن نے ان پر زوردار حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے، تو سیدنا ثابت نے سیدنا ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس طرح (بے ترتیبی سے) قتال نہیں کیا کرتے تھے۔“ پھر ان دونوں میں سے ہر ایک نے (اپنے لیے) زمین میں گڑھا کھودا اور دشمن کے حملوں کے سامنے ڈٹ گئے اور مسلسل لڑتے رہے یہاں تک کہ دونوں شہید ہو گئے، «رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِمَا» ”اللہ ان دونوں پر اپنی رحمت فرمائے۔“ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نہایت نفیس زرہ تھی، مسلمانوں میں سے ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو اس نے وہ اٹھا لی، پھر جب ایک مسلمان شخص سو رہا تھا تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اس کے خواب میں آئے اور فرمایا: ”میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں، خبردار! اسے محض خواب سمجھ کر ضائع نہ کر دینا؛ جب میں کل شہید ہوا تو ایک مسلمان شخص میرے پاس سے گزرا اور میری زرہ اٹھا کر لے گیا، اس کا ٹھکانہ لشکر کے آخری حصے میں ہے، اس کے خیمے کے پاس ایک گھوڑا اپنی لمبی رسی میں بندھا چکر کاٹ رہا ہے، اس نے میری زرہ پر ایک ہانڈی اوندھی کر رکھی ہے اور اس کے اوپر اونٹ کا پالان رکھا ہوا ہے؛ تم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ کسی کو بھیج کر میری زرہ منگوا لیں، اور جب تم رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کے پاس پہنچو تو انہیں بتانا کہ مجھ پر اتنا اتنا قرض ہے، اور میرا اتنا اتنا قرض لوگوں کے ذمے ہے، اور فلاں فلاں غلام (میری طرف سے) آزاد ہیں؛ خبردار! اسے محض خواب سمجھ کر ضائع نہ کر دینا۔“
چنانچہ وہ شخص سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس واقعے کی خبر دی، انہوں نے زرہ منگوانے کے لیے آدمی بھیجا جس نے لشکر کے آخری کنارے پر ایک خیمہ دیکھا جس کے پاس ایک گھوڑا اپنی طویل رسی میں چکر کاٹ رہا تھا، خیمے میں دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا، ان لوگوں نے اندر داخل ہو کر جب پالان اٹھایا تو اس کے نیچے اوندھی پڑی ہانڈی ملی، اور جب اسے اٹھایا تو زرہ اس کے نیچے موجود تھی، وہ زرہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس لائی گئی، پھر جب وہ شخص مدینہ منورہ پہنچا تو اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب سنایا، چنانچہ انہوں نے سیدنا ثابت کی وفات کے بعد ان کی وصیت کو نافذ فرما دیا؛ اور ہمیں کسی ایسے مسلمان کا علم نہیں ہے جس کی وفات کے بعد (خواب کی بنیاد پر) اس کی وصیت کو نافذ کیا گیا ہو سوائے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4082
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1320، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 15784»