المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب أبي ذر رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا عِكْرِمَةُ ، ثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ ، أَسْلَمَ قَبْلِي ثَلَاثَةٌ وَأَنَا الرَّابِعُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الِاسْتِبْشَارَ فِي وَجْهِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : جُنْدُبٌ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ .سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں اسلام لانے والے ابتدائی چار افراد میں سے چوتھا شخص تھا، یعنی مجھ سے پہلے صرف تین لوگ ایمان لائے تھے اور میں چوتھا مسلمان تھا؛ پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کلمات ادا کیے تو نبی کریم ﷺ کے چہرہِ انور پر خوشی اور مسرت کے آثار دیکھے، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم کون ہو؟“ میں نے عرض کی: ”میرا نام جندب ہے اور میں بنو غفار قبیلے کا ایک فرد ہوں۔““
یہ روایت مسند الحارث (بغية الباحث: 928) میں موجود ہے، علامہ ہیثمی نے اس کی سند کو جید قرار دیا ہے۔