المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب أبي ذر رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
وَبِهِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَرَأَيْتَ أَنِّي وُزِنْتُ بِأَرْبَعِينَ أَنْتَ فِيهِمْ ، فَوَزَنْتُهُمْ . فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : كَأَنَّكَ قَدْ عِيرَ بِكَ ، قَالَ : اسْكُتِي ، مَلَأَ اللهُ فَاكِ تُرَابًا .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ (خواب میں) میرا وزن چالیس آدمیوں کے مقابلے میں کیا گیا جن میں تم بھی شامل تھے، پس میں ان سب پر بھاری رہا۔“ (یہ سن کر) ان کی زوجہ نے ان سے کہا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس معاملے میں آپ کی سبکی اور تنقیص کی گئی ہے، تو انہوں نے (اپنی زوجہ کو ٹوکتے ہوئے) کہا: ”خاموش ہو جا! «مَلَأَ اللهُ فَاكِ تُرَابًا» ”اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو مٹی سے بھر دے۔““
اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں خالد بن یزید المری نامی راوی کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔