❮
❯
حدیث نمبر: 4077
وَبِهِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَرَأَيْتَ أَنِّي وُزِنْتُ بِأَرْبَعِينَ أَنْتَ فِيهِمْ ، فَوَزَنْتُهُمْ . فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : كَأَنَّكَ قَدْ عِيرَ بِكَ ، قَالَ : اسْكُتِي ، مَلَأَ اللهُ فَاكِ تُرَابًا .
ترجمہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ (خواب میں) میرا وزن چالیس آدمیوں کے مقابلے میں کیا گیا جن میں تم بھی شامل تھے، پس میں ان سب پر بھاری رہا۔“ (یہ سن کر) ان کی زوجہ نے ان سے کہا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس معاملے میں آپ کی سبکی اور تنقیص کی گئی ہے، تو انہوں نے (اپنی زوجہ کو ٹوکتے ہوئے) کہا: ”خاموش ہو جا! «مَلَأَ اللهُ فَاكِ تُرَابًا» ”اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو مٹی سے بھر دے۔““
اس حدیث کو امام احمد نے مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں خالد بن یزید المری نامی راوی کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4077
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«أخرجه مسند البزار برقم: 4073»