المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب أبي ذر رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ ، عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى تَوَاضُعِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہ تو اس سبز گنبدِ افلاک نے کبھی کسی پر سایہ کیا اور نہ ہی اس خاک آلود زمین نے کبھی کسی ایسے شخص کا بوجھ اٹھایا جو گفتگو کی سچائی میں ابو ذر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہو، اور جس شخص کو یہ بات مسرور کرے کہ وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جیسی عاجزی و فروتنی کا مشاہدہ کرے، تو اسے چاہیے کہ وہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کے زہد و تقویٰ کو دیکھ لے۔“
امام ابو بکر بن ابی شیبہ اور احمد بن منیع نے اسے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابو امیہ بن یعلیٰ ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کا پہلا حصہ دیگر معتبر شواہد و متابعات کی بنا پر صحیح ہے، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ والا حصہ بھی مختلف طرق سے منقول ہونے کی وجہ سے اپنی اصل میں ثابت ہے۔