❮
❯
حدیث نمبر: 4074
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنِ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الرَّبَذَةِ ، فَأَصَابَهُ قَدَرُهُ ، فَأَوْصَاهُمْ أَنِ اغْسِلُونِي ، وَكَفِّنُونِي ، ثُمَّ ضَعُونِي عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، فَأَوَّلُ رَكْبٍ يَمُرُّونَ بِكُمْ ، فَقُولُوا : هَذَا أَبُو ذَرٍّ ، صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعِينُونَا عَلَى غُسْلِهِ وَدَفْنِهِ ، فَفَعَلُوا ، فَأَقْبَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَكْبٍ مِنَ الْعِرَاقِ ، وَقَدْ وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ غُلَامٌ ، فَقَالَ : هَذَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَكَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : تَمْشِي وَحْدَكَ ، وَتَمُوتُ وَحْدَكَ ، وَتُبْعَثُ وَحْدَكَ .
الْقُرَظِيُّ مَا عَرَفْتُهُ ، فَإِنْ كَانَ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ فَالْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ .
-
4074 \ 2 - وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ . يَعْنِي هَذَا .
4074 \ 3 - أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَاتَةَ قَالَ : خَرَجْنَا عُمَّارًا فَعَمَدْنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِذَا هُوَ قَدْ أَقْبَلَ يَحْمِلُ عَظْمَ جَزُورٍ أَوْ يُحْمَلُ مَعَهُ ، فَأَتَى مَنْزِلَهُ ، ثُمَّ أَتَانَا فَسَلَّمَ عَلَيْنَا .. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ لَهُمْ : فِي كُلِّ كَذَا وَكَذَا جَزُورًا يَنْحَرُونَهَا فَيَأْكُلُونَهَا ، وَلِي فِي كُلِّ جَزُورٍ عَظْمٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُكَ ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لِي قَطِيعٌ مِنْ إِبِلٍ ، وَصَرِيمَةٌ مَنْ غَنَمٍ فِي إِحْدَاهَا ابْنِي ، وَفِي الْأُخْرَى غُلَامٌ أَسْوَدُ اشْتَرَيْتُهُ فَهُوَ عَتِيقٌ ، يَخْدُمُنِي إِلَى الْحَوْلِ ثُمَّ هُوَ عَتِيقٌ . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، وَاللهِ مَا مِنَ النَّاسِ عِنْدَنَا أَحَدٌ أَكْثَرُ أَمْوَالًا مِنْ أَصْحَابِكَ . فَقَالَ : وَاللهِ مَا لَهُمْ فِي مَالٍ مِنَ الْحَقِّ إِلَّا وَلِي مِثْلُهُ . قَالَ : فَجَعَلْنَا نَسْتَفْتِيهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، عِنْدَنَا رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ إِلَّا الْأَضْحَى وَالْفِطْرَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ . قَالَ : إِنَّهُ وَإِنَّهُ . قَالَ : فَأَعَادَهَا .. الْحَدِيثَ .
ترجمہ

قرظی نامی ایک راوی سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ربذہ کی جانب روانہ ہوئے تو ان کی وفات کا وقت قریب آن پہنچا، انہوں نے اپنے اہل خانہ کو وصیت فرمائی کہ ”تم مجھے غسل دینا، کفن پہنانا اور پھر مجھے شاہراہ کے کنارے رکھ دینا، پس جو پہلا قافلہ تمہارے پاس سے گزرے تو ان سے کہنا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوذر ہیں، لہذا ان کے غسل اور تدفین میں ہماری مدد کریں“۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عراق کے ایک قافلے کے ہمراہ تشریف لائے جبکہ جنازہ شاہراہ کے کنارے رکھا ہوا تھا، تو ایک لڑکا ان کی طرف بڑھا اور کہنے لگا: ”یہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی ابوذر ہیں“۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بے اختیار رو پڑے اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تم اکیلے چلو گے، تنہا ہی وفات پاؤ گے اور روزِ قیامت اکیلے ہی اٹھائے جاؤ گے““۔
اس قرظی راوی کے متعلق میں واقف نہیں ہو سکا، اگر اس سے مراد محمد بن کعب ہیں تو یہ حدیث منقطع ہے۔
امام احمد نے اسے ابراہیم بن اشتر، بحوالہ اپنے والد، انہوں نے سیدہ ام ذر سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے۔
سلمہ بن نباتہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بطور عمرہ زائرین نکلے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی رہائش گاہ کا قصد کیا، اچانک دیکھا کہ وہ اونٹ کی ہڈی اٹھائے ہوئے تشریف لا رہے ہیں، وہ اپنی قیام گاہ پر پہنچے پھر ہمارے پاس آ کر ہمیں سلام کیا، پھر انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے ان سے کہا کہ ”لوگ مخصوص ایام میں اونٹ ذبح کر کے کھاتے ہیں اور مجھے ہر ذبح شدہ اونٹ میں سے ایک ہڈی ملتی ہے“۔ ایک شخص نے عرض کیا: اے ابوذر! آپ کے پاس مال و دولت کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”میرے پاس اونٹوں کا ایک گلہ اور بکریوں کا ایک ریوڑ ہے، ایک کی نگرانی میرا بیٹا کر رہا ہے اور دوسرے کے ساتھ ایک سیاہ فام غلام ہے جسے میں نے خریدا تھا، وہ آزاد ہے، وہ ایک سال تک میری خدمت کرے گا پھر (مکمل طور پر) آزاد ہو جائے گا“۔ ایک شخص نے کہا: اے ابوذر! اللہ کی قسم، ہمارے نزدیک لوگوں میں آپ کے ساتھیوں (دیگر صحابہ) سے زیادہ مالدار کوئی نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم، مال میں ان کا جو حق ہے میرا بھی ویسا ہی حق ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان سے شرعی مسائل پوچھنے لگے تو ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوذر! ہمارے ہاں ایک ایسا شخص ہے جو عیدین کے علاوہ پورا سال روزے رکھتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا“۔ اس شخص نے اپنی بات دوبارہ کہی تو انہوں نے پھر وہی جواب دہرایا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4074
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: الْقُرَظِيُّ مَا عَرَفْتُهُ ، فَإِنْ كَانَ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ فَالْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ . »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4398، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1621»