❮
❯
حدیث نمبر: 4066
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : تَكَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، ثُمَّ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : رَضِيتُ لَكُمْ مَا رَضِيَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، وَكَرِهْتُ لَكُمْ مَا كَرِهَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَضِيتُ لِأُمَّتِي مَا رَضِيَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں گفتگو فرمائی، پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر عرض کیا: «رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر (دل و جان سے) راضی ہوں۔“ پھر انہوں نے (صحابہ سے) فرمایا: ”میں تمہارے لیے اسی بات پر راضی ہوں جس پر اللہ اور اس کا رسول راضی ہوں، اور تمہارے لیے وہی بات ناپسند کرتا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کو ناپسند ہو۔“ تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنی امت کے لیے اسی بات پر راضی ہوں جس پر ابنِ ام عبد (عبداللہ بن مسعود) ان کے لیے راضی ہو۔“
اس روایت کو امام حاکم نے المستدرک میں نقل کیا ہے اور امام ذہبی نے اسے صحیح قرار دیا ہے، نیز اس کے شواہد دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4066
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح مرسل »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 5429، وأخرجه مسند البزار برقم: 1986، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 32896، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8458، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6879»