المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ ابن مسعود رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : مَا أَرَى رَجُلًا أَعْلَمَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . فَقَالَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ ، لَقَدْ كَانَ يَسْمَعُ حِينَ لَا يُسْمَعُ ، وَيَدْخُلُ حَيْثُ لَا نَدْخُلُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں کسی ایسے شخص کو نہیں پاتا جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر اس وحی و شریعت کا علم رکھنے والا ہو جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے (ان کی تائید کرتے ہوئے) فرمایا: ”اگر تم یہ بات کہہ رہے ہو (تو بالکل سچ ہے)، کیونکہ وہ اس وقت بھی نبی کریم ﷺ کے ارشادات سن لیا کرتے تھے جب ہمیں (حاضر نہ ہونے کی وجہ سے) سننے کا موقع نہیں ملتا تھا، اور وہ بارگاہِ نبوی میں اس وقت بھی داخل ہو جاتے تھے جب ہمیں (پردہ یا خلوت کی وجہ سے) اندر جانے کی رسائی حاصل نہیں ہوتی تھی۔“
اسے امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے۔