المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ أبي أمامة رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ ، ثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ابْنُ كَمْ كُنْتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَا سَأَلَنِي عَنْهَا غَيْرُكَ قَبْلَكَ ، كُنْتُ ابْنَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَحَضَرْتُ خُطْبَةً ، فَجَعَلَ يَمِيلُ بِصَدْرِ رَاحِلَتِهِ فَيَكَادُ أَنْ تُزِيلَنِي عَنِ السَّمَاعِ ، فَأَضَعُ كَتِفِي فِي صَدْرِ رَاحِلَتِهِ فَأُزِيلُهَا .سلیم بن عامر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں آپ کی عمر کتنی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”مجھ سے پہلے تمہارے سوا کسی نے اس بارے میں سوال نہیں کیا، میں اس وقت تینتیس برس کا تھا، اور مجھے وہ منظر یاد ہے جب میں آپ ﷺ کے ایک خطبہ میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ اپنی اونٹنی کے سینے کو میری طرف مائل کرنے لگے یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ مجھے خطبہ سننے سے دور کر دیتی یا اپنی جگہ سے ہٹا دیتی، چنانچہ میں نے اپنا کندھا اس اونٹنی کے سینے پر جما دیا اور اسے پرے ہٹا دیا۔“
اسے امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔