المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ أبي أمامة رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الْبَصْرِيُّ ، ثَنَا صَدَقَةُ بْنُ هُرْمُزَ الْقَسْمَلِيُّ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَأَنَا طَاوِي ، وَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَأْكُلُونَ الدَّمَ ، فَقَالُوا : هَلُمَّ ، فَقُلْتُ : جِئْتُ أَنْهَاكُمْ عَنْ هَذَا ، فَنِمْتُ وَأَنَا مَغْلُوبٌ ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَقَالَ : خُذْ ، فَأَخَذْتُهُ فَشَرِبْتُ ، فَشَبِعْتُ وَرَوِيتُ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَتَاكُمْ رَجُلٌ مِنْ سَرَاةِ قَوْمِكُمْ فَلَمْ تُتْحِفُوهُ بِمَذِيقَةٍ ، قَالَ : فَأَتَوْنِي بِمَذِيقَتِهِمْ ، فَقُلْتُ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا ، قَالُوا : إِنَّا رَأَيْنَاكَ بِجَهْدٍ ، فَأَرَيْتُهُمْ بَطْنِي ، فَأَسْلَمُوا عَنْ آخِرِهِمْ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے میری قوم کی طرف (دعوتِ اسلام کے لیے) بھیجا، چنانچہ جب میں ان کے پاس پہنچا تو میں بھوک سے بالکل نڈھال تھا، اور وہ لوگ (بیٹھ کر) خون کھا رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ”آؤ (تم بھی ہمارے ساتھ شریک ہو جاؤ)“، تو میں نے کہا: ”میں تو تمہارے پاس تمہیں اسی قبیح کام سے روکنے کے لیے آیا ہوں۔“ پھر میں بھوک اور پیاس کی شدت کی وجہ سے نڈھال ہو کر سو گیا، تو خواب میں میرے پاس ایک آنے والا ایک ایسا برتن لے کر آیا جس میں پینے کی کوئی چیز (مشروب) تھی، اس نے کہا: ”اسے پکڑو“، چنانچہ میں نے اسے لے کر پی لیا، یہاں تک کہ میں خوب سیر ہو گیا اور میری پیاس بجھ گئی۔ (اسی دوران) ان میں سے ایک شخص نے کہا: ”تمہاری قوم کے معزز لوگوں میں سے ایک شخص تمہارے پاس آیا ہے اور تم نے اسے لسی کا ایک گھونٹ تک پیش نہیں کیا؟“ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ میرے پاس لسی لے کر آئے تو میں نے کہا: ”مجھے اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ انہوں نے (حیرت سے) کہا: ”ہم نے تو تمہیں سخت مشقت اور بھوک کی حالت میں دیکھا تھا؟“ تب میں نے انہیں اپنا پیٹ دکھایا (جو کہ غیبی طور پر سیر ہو چکا تھا)، پس وہ سب کے سب اپنے آخری فرد تک دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں صدقہ بن ہرمز القسملي ہیں جن کے بارے میں محدثین کے اقوال مختلف ہیں، تاہم اس واقعے کے دیگر شواہد کتبِ سیرت و احادیث میں موجود ہیں۔