المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ صهيب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا دَفَّاعُ بْنُ دَغْفَلٍ ، ثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِصُهَيْبٍ : يَا صُهَيْبُ ، إِنَّ فِيكَ خِصَالًا ثَلَاثًا أَكْرَهُهَا لَكَ .
قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِطْعَامُكَ الطَّعَامَ وَلَا مَالَ لَكَ ، وَاكْتِنَاؤُكَ وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ ، وَادِّعَاؤُكَ إِلَى الْعَرَبِ وَفِي لِسَانِكَ لُكْنَةٌ .
قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الطَّعَامِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَفْضَلُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَأَيْمُ اللهِ لَا أَتْرُكُ إِطْعَامَ الطَّعَامِ أَبَدًا . وَذَكَرَ الْكُنْيَةَ ، قَالَ : فَعَلَيْهَا أَحْيَا وَعَلَيْهَا أَمُوتُ . وَذَكَرَ الِادِّعَاءَ ، قَالَ : فَأَنَا صُهَيْبُ بْنُ سِنَانٍ ، حَتَّى انْتَسَبَ إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ ، كُنْتُ أَرْعَى عَلَى أَهْلِي ، وَإِنَّ الرُّومَ أَغَارَتْ فَرَقَّتْنِي ، فَعَلَّمَتْنِي لُغَتَهَا ، فَهُوَ الَّذِي تَرَى مِنْ لُكْنَتِي .
قُلْتُ : هَذَا إِسْنَادٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : إِنَّ صُهَيْبًا .. فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
وَهَذَا السِّيَاقُ أَوَفَى .
وَفِي الْبُخَارِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ .
وَفِي ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ آخَرُ .
وَإِنَّمَا أَخْرَجْتُهُ لِغَرَابَةِ إِسْنَادِهِ وَاسْتِيفَاءِ سِيَاقِهِ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے صہیب! آپ میں تین ایسی خصلتیں ہیں جو مجھے ناپسند ہیں۔“ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ”آپ کا لوگوں کو کھانا کھلانا حالانکہ آپ کے پاس مال نہیں ہے، آپ کا کنیت اختیار کرنا حالانکہ آپ کی کوئی اولاد نہیں ہے، اور آپ کا خود کو عربوں کی طرف منسوب کرنا حالانکہ آپ کی زبان میں لکنت (غیر عربی اثر) ہے۔“ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے جواباً عرض کیا: ”رہی بات کھانا کھلانے کی جس کا آپ نے تذکرہ کیا، تو بے شک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: «أَفْضَلُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ» ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو کھانا کھلائے۔“ اور اللہ کی قسم! میں کھانا کھلانا کبھی ترک نہیں کروں گا۔“ پھر انہوں نے اپنی کنیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اسی پر میں جی رہا ہوں اور اسی پر مجھے موت آئے گی۔“ اور اپنے نسب کے متعلق کہا: ”میں صہیب بن سنان ہوں،“ یہاں تک کہ انہوں نے نمر بن قاسط تک اپنا نسب بیان کیا اور کہا: ”میں اپنے اہل خانہ کے مویشی چرایا کرتا تھا کہ رومیوں نے چھاپہ مار کر مجھے قیدی بنا لیا، پھر انہوں نے مجھے اپنی زبان سکھا دی، پس یہی وہ سبب ہے جو آپ میری زبان میں لکنت کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔“
میں کہتا ہوں: یہ سند غریب ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے اسے حمزہ بن صہیب کے طریق سے روایت کیا ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے... پھر انہوں نے اسی کے مانند تذکرہ کیا ہے، البتہ یہ سیاق زیادہ مکمل اور مفصل ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کا ایک حصہ روایت کیا ہے اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس کا دوسرا ٹکڑا بیان کیا ہے، میں نے اسے صرف اس کی سند کی غرافت اور سیاق کی کاملیت کی وجہ سے یہاں درج کیا ہے۔