❮
❯
حدیث نمبر: 4032
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّابِغَةَ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَدْتُهُ قَوْلِي :
وَإِنَّا لَقَوْمٌ مَا نُعَوِّدُ خَيْلَنَا إِذَا مَا الْتَقَيْنَا أَنْ تَحِيدَ وَتَنْفِرَا وَتُنْكِرُ يَوْمَ الرَّوْعِ أَلْوَانَ خَيْلِنَا
مِنَ الطَّعْنِ حَتَّى تَحْسَبَ الْجَوْنَ أَشْقَرَا وَلَيْسَ بِمَعْرُوفٍ لَنَا أَنْ نَرُدَّهَا
صِحَاحًا وَلَا مُسْتَنْكَرٌ أَنْ يُعَفَّرَا بَلَغْنَا السَّمَاءَ مَجْدُنَا وَجُدُودُنَا
وَإِنَّا لَنَبْغِي فَوْقَ ذَلِكَ مَظْهَرًا قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَى أَيْنَ ؟ قُلْتُ : إِلَى الْجَنَّةِ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى . قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَلَمَّا أَنْشَدْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
وَلَا خَيْرَ فِي حِلْمٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ بَوَادِرُ تَحْمِي صَفْوَهُ أَنْ يُكَدَّرَا
وَلَا خَيْرَ فِي جَهْلٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ أَرِيبٌ إِذَا مَا أُورِدَ الْأَمْرُ أَصْدَرَا
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَفْضُضُ اللهُ فَاكَ . قَالَ : فَكَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ، وَكَانَ إِذَا سَقَطَتْ لَهُ سِنٌّ نَبَتَتْ .
ترجمہ

سیدنا نابغہ جعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کو اپنے یہ اشعار سنائے: ”بے شک ہم ایسی بہادر قوم ہیں جو اپنے گھوڑوں کو اس بات کا عادی نہیں بناتے کہ جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو تو وہ راہِ فرار اختیار کریں یا بدک کر بھاگیں، اور معرکہ آرائی کے دن نیزوں کے پیہم کچوکوں کی وجہ سے ہمارے گھوڑوں کے رنگ بدل جاتے ہیں یہاں تک کہ تم خون کی سرخی کی وجہ سے گہرے سیاہ گھوڑے کو بھی سرخی مائل گمان کرنے لگتے ہو، اور ہمارا یہ شیوہ نہیں ہے کہ ہم اپنے گھوڑوں کو (میدانِ جنگ سے) صحیح سالم واپس لائیں اور نہ ہی ہمیں یہ بات ناگوار گزرتی ہے کہ وہ خاکِ مقتل میں لت پت ہو جائیں، ہماری شرافت اور ہمارے آبا و اجداد کی عظمت آسمان کی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے اور ہم اس سے بھی بلند تر کسی جائے ظہور و رفعت کے طلب گار ہیں“، اس پر نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کہاں تک؟“ (یعنی آسمان سے اوپر کون سا مقام مقصود ہے؟) میں نے عرض کیا: ”جنت تک“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، ان شاء اللہ تعالیٰ“، سیدنا نابغہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے آپ ﷺ کے سامنے یہ اشعار پڑھے: ”اور اس حلم و بردباری میں کوئی بھلائی نہیں جس کی حفاظت کے لیے ایسی شجاعت و تندی نہ ہو جو اس کے سکون و صفائی کو گدلا ہونے سے بچائے، اور اس نادانی میں کوئی خیر نہیں جس کے پاس ایسا صاحبِ عقل و دانش نہ ہو جو کسی معاملے کے درپیش ہونے پر اسے سلجھا کر درست انجام تک پہنچا سکے“، تو نبی کریم ﷺ نے ان کے حق میں یہ دعا فرمائی: «لَا يَفْضُضِ اللہُ فَاكَ» ”اللہ تعالیٰ تمہارے دانتوں کو سلامت رکھے اور انہیں کبھی نہ توڑے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس نبوی دعا کی برکت سے سیدنا نابغہ رضی اللہ عنہ دانتوں کے اعتبار سے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ حسین تھے، اور ان کا حال یہ تھا کہ اگر (بڑھاپے میں) ان کا کوئی دانت گرتا تو اس کی جگہ نیا دانت نکل آتا تھا۔
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4032
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13337، 13338، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5531»