المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ صهيب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، قَالُوا : ثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : إِنَّ صُهَيْبًا حِينَ أَرَادَ الْهِجْرَةَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ لَهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍ : أَتَيْتَنَا صُعْلُوكًا فَكَثُرَ مَالُكَ عِنْدَنَا وَبَلَغْتَ مَا بَلَغْتَ ، ثُمَّ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ بِنَفْسِكَ وَمَالِكَ ! وَاللهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَعْطَيْتُكُمْ مَالِي تُخَلُّونَ سَبِيلِي ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : أُشْهِدُكُمْ أَنْ قَدْ جَعَلْتُ لَكُمْ مَالِي ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : رَبِحَ صُهَيْبٌ ، رَبِحَ صُهَيْبٌ .
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ; إِنْ كَانَ أَبُو عُثْمَانَ سَمِعَهُ مِنْ صُهَيْبٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا أَرَدْتُ .. فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
فَصَحَّ اتِّصَالُهُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ مَرْدُوَيْهِ فِي التَّفْسِيرِ لِلْمُسْنَدِ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرٍ .
( 182 ) وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - تَقَدَّمَ فِي التَّفْسِيرِ لَلْبَقَرَةِ .ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا، تو کفارِ قریش نے ان سے کہا: ”تم ہمارے پاس ایک نہایت غریب اور مفلوک الحال شخص کی حیثیت سے آئے تھے، پھر ہمارے درمیان رہ کر تمہارے مال و دولت میں خوب اضافہ ہوا اور تم اس (مالداری کے) مقام کو پہنچ گئے جہاں آج ہو، اور اب تم یہ چاہتے ہو کہ اپنی جان اور اپنا مال دونوں لے کر یہاں سے نکل جاؤ! اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔“ انہوں نے ان سے دریافت کیا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں اپنا سارا مال تمہارے حوالے کر دوں تو کیا تم میرا راستہ چھوڑ دو گے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا تمام مال تمہارے سپرد کر دیا ہے۔“ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «رَبِحَ صُهَيْبٌ، رَبِحَ صُهَيْبٌ» ”صہیب نفع پا گیا، صہیب نفع پا گیا۔“
یہ حدیث صحیح ہے بشرطیکہ ابوعثمان کا سماع سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے ثابت ہو، اور یقیناً اسے جعفر بن سلیمان الضبعی نے عوف سے، انہوں نے ابوعثمان سے اور انہوں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب میں نے (ہجرت کا) ارادہ کیا...“ پھر راوی نے اسی کے مانند واقعہ ذکر کیا۔ چنانچہ اس کی سند کا اتصال ثابت ہو گیا اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اسے ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں جعفر کی حدیث سے مسنداً روایت کیا ہے، نیز اس کا ایک شاہد علی بن زید بن جدعان کی روایت سے ہے جو سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کا تذکرہ پہلے سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔