المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ باب: نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 403
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( مَنْ سَمِعَ الْأَذَانَ ثُمَّ لَمْ يَأْتِ الصَّلَاةَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ فَلَا صَلَاةَ لَهُ ) .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جس شخص نے اذان کی آواز سنی اور پھر کسی (شرعی) عذر کے بغیر نماز (باجماعت) کی ادائیگی کے لیے حاضر نہ ہوا، تو اس کی کوئی نماز نہیں (یعنی اس کی نماز کامل نہیں ہوتی یا وہ اس کامل ثواب سے محروم رہتا ہے جو باجماعت نماز کے لیے مخصوص ہے)۔“
اس روایت کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ جلیل القدر صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا موقوف قول ہے، جسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔