❮
❯
حدیث نمبر: 402
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْعَنْسِيِّ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ رُفَيْعٍ ، ثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ وَحْدَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً ، وَصَلَاتُهُ فِي رُفْقَتِهِ بِتِسْعِمِائَةِ صَلَاةٍ ، وَصَلَاتُهُ فِي جَمَاعَةٍ بِتِسْعَةٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ صَلَاةٍ " .
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کی اللہ تعالیٰ کی راہ میں تنہا ادا کی گئی نماز کا ثواب پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور اس کی اپنے ساتھیوں کی معیت و رفاقت میں پڑھی گئی نماز نو سو نمازوں کے برابر ہے، جبکہ اس کی باجماعت ادا کی گئی نماز کا اجر و ثواب انچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

[وَقَالَ] الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى الْجَمَاعَةِ حَيْثُ كَانَ وَمَعَ مَنْ كَانَ مَرَّ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ اللَّامِعِ فِي أَوَّلِ زُمْرَةٍ مَعَ السَّابِقِينَ ، وَوَجْهُهُ أَضْوَأُ مِنَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَكَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ حَافَظَ عَلَيْهَا ثَوَابُ شَهِيدٍ ، وَمَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ، فَأَدْرَكَ أَوَّلَ تَكْبِيرَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُؤْذِيَ مُؤْمِنًا أَعْطَاهُ اللهُ تَعَالَى ثَوَابَ الْمُؤَذِّنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
( 18 ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي ثَوَابِ الْمُؤَذِّنِينَ ، وَقَدْ مَضَى فِي الْأَذَانِ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ سَاقَهُ الْحَارِثُ فِي نَحْوِ خَمْسَةِ أَوْرَاقٍ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے باقاعدگی کے ساتھ باجماعت نماز کی پابندی کی، وہ خواہ کہیں بھی ہو اور جس کے ساتھ بھی ہو، وہ پل صراط سے چمکتی ہوئی بجلی کی مانند پہلے گروہ میں سبقت لے جانے والوں کے ساتھ گزرے گا، جب کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند سے زیادہ روشن و تابناک ہو گا، اور اسے ہر اس دن اور رات کے بدلے جس میں اس نے جماعت کی محافظت کی، ایک شہید کا اجر ملے گا، اور جس نے پہلی صف کی پابندی کی اور کسی مومن کو تکلیف پہنچائے بغیر پہلی تکبیر (تکبیرِ تحریمہ) کو پا لیا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن مؤذنوں کے برابر ثواب عطا فرمائے گا۔“
(18) امام حارث نے یہ حدیث مؤذنوں کے ثواب کے متعلق ذکر کی ہے اور یہ اذان کے باب میں پہلے گزر چکی ہے۔
یہ ایک موضوع (من گھڑت) روایت ہے جسے حارث نے تقریباً پانچ صفحات کے طویل متن میں بیان کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 402
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»