المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ خزيمة بن ثابت رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، ثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَرَسًا ، فَجَحَدَهُ الْأَعْرَابِيُّ ، فَجَاءَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَعْرَابِيُّ ، أَتَجْحَدُ ؟ أَنَا أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ بِعْتَهُ .
فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : إِنْ شَهِدَ عَلَيَّ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَعْطِنِي الثَّمَنَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا خُزَيْمَةُ ، إِنَّا لَمْ نَشْهَدْكَ ، فَكَيْفَ تَشْهَدُ ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا أُصَدِّقُكَ عَلَى خَبَرِ السَّمَاءِ ، أَلَا أُصَدِّقُكَ عَلَى ذَا الْأَعْرَابِيِّ ؟ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ ، فَلَمْ يَكُنْ فِي الْإِسْلَامِ رَجُلٌ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ غَيْرَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دیہاتی سے ایک گھوڑا خریدا، مگر وہ دیہاتی (اپنے قول سے) پھر گیا اور سودے کا انکار کرنے لگا، اس پر سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ”اے دیہاتی! کیا تو (سودے سے) انکار کر رہا ہے؟ میں تیرے خلاف اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ گھوڑا آپ ﷺ کے ہاتھ فروخت کیا ہے“۔ اس دیہاتی نے کہا: ”اگر خزیمہ بن ثابت میرے خلاف گواہی دیتے ہیں تو (مجھے منظور ہے، اب) مجھے میری قیمت ادا کر دیجیے“، تب رسول اللہ ﷺ نے (تعجب سے) دریافت فرمایا: ”اے خزیمہ! ہم نے تو تمہیں (اس وقت) گواہ نہیں بنایا تھا، پھر تم گواہی کیسے دے رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں آسمانی خبروں (وحی) کے معاملے میں آپ ﷺ کی کامل تصدیق کرتا ہوں، تو کیا اس دیہاتی کے معاملے میں آپ ﷺ کی بات کی تصدیق نہ کروں؟“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اکیلی گواہی کو دو مَردوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
تاریخِ اسلام میں سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ہوا جس کی تنہا گواہی دو مَردوں کی گواہی کے قائم مقام اور شرعاً جائز قرار دی گئی ہو۔