المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
فَضْلِ خزيمة بن ثابت رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، ثَنَا أَبُو فَرْوَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اشْتَرَى فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَجَحَدَهُ الْأَعْرَابِيُّ الْبَيْعَ ، فَقَالَ : لَمْ أَبِعْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ بِعْتَنِي ، فَمَرَّ عَلَيْهِمْ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَمِعَ قَوْلَهُمَا ، فَقَالَ : أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ بِعْتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ وَلَمْ تَشْهَدْنَا ؟
فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَدْ شَهِدْنَا عَلَى مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ حَتَّى مَاتَ خُزَيْمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
4019 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زُرَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، ثَنَا عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى فَرَسًا مِنْ سَوَاءِ بْنِ قَيْسٍ الْمُحَارِبِيِّ ، فَجَحَدَهُ ، فَشَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى الشَّهَادَةِ وَلَمْ تَكُنْ مَعَنَا حَاضِرًا ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : صَدَّقْتُكَ بِمَا جِئْتَ بِهِ ، وَعَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تَقُولُ إِلَّا حَقًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ أَوْ عَلَيْهِ فَهُوَ حَسْبُهُ .
4019 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرے جبکہ آپ ﷺ ایک اعرابی سے گھوڑا خرید چکے تھے مگر وہ اعرابی اس بیع (خرید و فروخت) کا صریح انکار کرنے لگا اور کہنے لگا: "میں نے آپ کے ہاتھ یہ گھوڑا نہیں بیچا۔" نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیوں نہیں، تم نے میرے ہاتھ اسے فروخت کر دیا ہے۔" اسی اثنا میں سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور ان دونوں کی گفتگو سنی تو پکار اٹھے: "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اسے خرید لیا ہے۔" نبی کریم ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: "تمہیں اس معاملے کا علم کیسے ہوا جبکہ تم سودے کے وقت ہمارے پاس موجود نہیں تھے؟" انہوں نے عرض کیا: "ہم اس (دنیاوی معاملے) سے کہیں زیادہ بڑی اور عظیم بات (یعنی وحی الٰہی اور آپ کی نبوت) کی گواہی دے چکے ہیں (تو اس معاملے میں آپ کی سچائی پر شک کیسے کر سکتے ہیں)۔" چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان کی تنہا گواہی کو شرعی طور پر دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا اور یہ اعزاز سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی وفات تک برقرار رہا۔
نیز سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ہی سے ایک اور طریق سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سواء بن قیس المحاربی سے ایک گھوڑا خریدا، جس سے اس نے بعد میں انکار کر دیا، تو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے حق میں گواہی دی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: "تمہیں اس گواہی پر کس جذبے نے ابھارا جبکہ تم موقع پر حاضر نہ تھے؟" انہوں نے عرض کیا: "میں نے آپ کے لائے ہوئے دین و شریعت کی تصدیق کی ہے اور میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ کی زبانِ مبارک سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا"۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے یہ فضیلت بیان فرمائی: «مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ أَوْ عَلَيْهِ فَهُوَ حَسْبُهُ» "جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دے، تو وہی اس کے لیے کافی ہے"۔
اس حدیث کو امام ابن ابی عمر، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو یعلیٰ نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے، اس کی اصل سنن ابی داؤد اور نسائی میں بھی موجود ہے اور یہ صحیح ہے۔