المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ باب: نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل کا بیان۔
[وَقَالَ] مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : ( دَخَلْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ، وَعِنْدَهُ ابْنَاهُ ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَقَالَ : اذْهَبَا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ) .سیدنا ثابت بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس حاضر ہوا جبکہ وہ حالتِ علالت میں تھے، اس وقت ان کے پاس ان کے دونوں صاحبزادے بھی موجود تھے، اسی اثنا میں نماز کی اقامت کہی گئی تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے (اپنے بیٹوں کو حکم دیتے ہوئے) فرمایا: ”تم دونوں نماز کی ادائیگی کے لیے چلے جاؤ، کیونکہ کسی بھی شخص کی جماعت کے ساتھ ادا کردہ نماز اس کی تنہا پڑھی جانے والی نماز پر پچیس درجے فضیلت و برتری رکھتی ہے۔“
اس اثر کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام رواة ثقہ ہیں، نیز نمازِ باجماعت کی یہ فضیلت صحیح مرفوع احادیث سے بھی ثابت ہے۔