❮
❯
حدیث نمبر: 4018
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، أَنْبَأَنِي الْحَسَنُ ، عَنْ صَاحِبِ زَادِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : كَانَ يُسَمَّى سَفِينَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، وَرَاحِلَتُهُ بِهَا زَادُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ فَقَالَ : إِنِّي قَدْ جُعْتُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِمُعْطِيكَ حَتَّى يَأْمُرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْزِلَ النَّاسُ فَنَأْكُلَ ، قَالَ : فَقَالَ هَكَذَا بِالسَّيْفِ ، وَكَشَفَ عُرْقُوبَ الرَّاحِلَةِ ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا حَزَبَهُمْ أَمْرٌ قَالُوا : احْبِسْ أَوَّلُ ، احْبِسْ أَوَّلُ . فَسَمِعُوا فَوَقَفُوا ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى مَا صَنَعَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ بِالرَّاحِلَةِ قَالَ لَهُ : اخْرُجْ ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَسِيرُوا ، فَجَعَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَتْبَعُهُمْ حَتَّى نَزَلُوا ، فَجَعَلَ يَأْتِيهِمْ فِي رِحَالِهِمْ وَيَقُولُ : إِلَى أَيْنَ أَخْرَجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِلَى النَّارِ أَخْرَجَنِي ؟ قَالَ : فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا زَالَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ يَتَحَوَّبُ رِحَالَنَا مُنْذُ اللَّيْلَةِ ، وَيَقُولُ : إِلَى أَيْنَ أَخْرَجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِلَى النَّارِ أَخْرَجَنِي ؟
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ خَبِيثُ اللِّسَانِ طَيِّبُ الْقَلْبِ .
ترجمہ

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے توشہ بردار) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور آپ ﷺ کے زادِ راہ والا اونٹ ان کے پاس تھا، پس سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: ”مجھے سخت بھوک لگی ہے،“ انہوں نے جواب دیا: ”میں تمہیں اس وقت تک کچھ نہیں دوں گا جب تک نبی کریم ﷺ مجھے حکم نہ دے دیں اور لوگ پڑاؤ نہ ڈال لیں تاکہ ہم کھانا کھائیں،“ راوی کہتے ہیں کہ اس پر انہوں نے اپنی تلوار سے وار کیا اور اونٹ کی کوچیں کاٹ ڈالیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ان لوگوں کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہوتا تو وہ پکارتے تھے: ”پہلے والے کو روک لو، پہلے والے کو روک لو،“ چنانچہ لوگوں نے یہ آواز سنی اور ٹھہر گئے، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ صفوان بن معطل نے اونٹ کے ساتھ کیا کیا ہے، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”یہاں سے چلے جاؤ،“ اور آپ ﷺ نے لوگوں کو کوچ کا حکم دے دیا، چنانچہ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ جب لوگوں نے قیام کیا تو وہ ان کے خیموں میں جا کر کہنے لگے: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے کہاں نکال دیا ہے؟ کیا مجھے آگ کی طرف نکال دیا ہے؟“ راوی کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! صفوان بن معطل آج رات سے ہمارے خیموں کے گرد گھومتے ہوئے پچھتا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کہاں نکال دیا ہے؟ کیا مجھے آگ کی طرف نکال دیا ہے؟“
پس رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً صفوان بن معطل سخت زبان والے (تیز گو) ہیں مگر ان کا دل نہایت پاکیزہ ہے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4018
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن مرسل »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»