المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ خالد بن الوليد رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4011
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ : نَزَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمَرَازِبَةِ فَقَالُوا لَهُ : احْذَرِ السُّمَّ لَا تَسْقِيكَهُ الْأَعَاجِمُ . فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ائْتُونِي بِهِ . فَأُتِيَ بِهِ ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ اقْتَحَمَهُ ، وَقَالَ : بِاسْمِ اللهِ . فَلَمْ يَضُرَّهُ شَيْئًا .ترجمہ
ابو السفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مرازبہ (عجمی سرداروں اور گورنروں) کے ہاں ٹھہرے تو انہوں نے آپ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ”زہر سے ہوشیار رہیے گا، کہیں عجمی لوگ آپ کو اسے پلا نہ دیں“۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ زہر میرے پاس لے کر آؤ“۔ چنانچہ جب وہ لایا گیا تو آپ نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر اسے نوش فرما لیا، اور کہا: «بِسْمِ اللَّهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“۔ پس اس زہر نے آپ کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچایا۔
[یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ: 24208، اور ابویعلیٰ: 7183 میں مروی ہے، امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے]