❮
❯
حدیث نمبر: 4012
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اعْتَمَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ اعْتَمَرَهَا ، فَحَلَقَ شَعَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُ إِلَى النَّاصِيَةِ فَأَخَذْتُهَا ، فَاتَّخَذْتُ قَلَنْسُوَةً فَجَعَلْتُهَا فِي مُقَدَّمِ الْقَلَنْسُوَةِ ، فَمَا وُجِّهْتُ فِي وَجْهٍ إِلَّا فُتِحَ لِي .
ترجمہ

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک عمرہ ادا کیا، جس میں آپ ﷺ نے اپنے سرِ مبارک کے بال منڈوائے، تو میں نے لپک کر آپ ﷺ کی پیشانی کے بال حاصل کر لیے، پھر میں نے ایک ٹوپی لی اور ان بالوں کو اس ٹوپی کے سامنے والے حصے میں سی لیا، چنانچہ اس کے بعد میں جس معرکے یا جس سمت میں بھی گیا، اللہ کی نصرت سے میرے لیے فتح و کامرانی کی راہیں کھول دی گئیں“۔
تخریج: اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند (16828) میں روایت کیا ہے، امام حاکم نے اسے المستدرک (3/ 299) میں صحیح قرار دیا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، جبکہ علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ثقہ راویوں کی سند سے قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4012
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 5351، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 3804، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 15881، 15882، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6832»