المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ خالد بن الوليد رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اعْتَمَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ اعْتَمَرَهَا ، فَحَلَقَ شَعَرَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُ إِلَى النَّاصِيَةِ فَأَخَذْتُهَا ، فَاتَّخَذْتُ قَلَنْسُوَةً فَجَعَلْتُهَا فِي مُقَدَّمِ الْقَلَنْسُوَةِ ، فَمَا وُجِّهْتُ فِي وَجْهٍ إِلَّا فُتِحَ لِي .سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک عمرہ ادا کیا، جس میں آپ ﷺ نے اپنے سرِ مبارک کے بال منڈوائے، تو میں نے لپک کر آپ ﷺ کی پیشانی کے بال حاصل کر لیے، پھر میں نے ایک ٹوپی لی اور ان بالوں کو اس ٹوپی کے سامنے والے حصے میں سی لیا، چنانچہ اس کے بعد میں جس معرکے یا جس سمت میں بھی گیا، اللہ کی نصرت سے میرے لیے فتح و کامرانی کی راہیں کھول دی گئیں“۔
تخریج: اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند (16828) میں روایت کیا ہے، امام حاکم نے اسے المستدرک (3/ 299) میں صحیح قرار دیا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، جبکہ علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ثقہ راویوں کی سند سے قرار دیا ہے۔