المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ باب: نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 400
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، رَفَعَهُ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ صَارِخًا بِالصَّلَاةِ ، ثُمَّ أَتَخَلَّفَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ " .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرا پختہ ارادہ ہوا کہ میں کسی پکارنے والے (مؤذن) کو نماز کے لیے اذان دینے کا حکم دوں، پھر میں ان مردوں کے پاس (ان کے گھروں میں) جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کے گھروں کو ان سمیت آگ لگا کر جلا دوں۔“
اسے امام ابوداؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں طلحہ بن عمرو المکی ضعیف راوی ہے، البتہ اس مفہوم کی اصل صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔