المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ باب: نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سَيَّارٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ ، قَالَ : ( دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ ، فَإِذَا أَنَا بِفَتًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، جَعْدٌ قَطَطٌ ، فَإِذَا تَكَلَّمَ كَأَنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ نُورٌ وَلُؤْلُؤٌ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ) ؟ قَالُوا : مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَأْتِيَ اللهَ تَعَالَى آمِنًا فَلْيَأْتِ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ حَيْثُ يُؤَذَّنُ لَهَا ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى ، وَمِمَّا سَنَّهُ لَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يَقُلْ : إِنَّ لِي مُصَلًّى فِي بَيْتِي فَأُصَلِّي فِيهِ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ بَيِّنُ النِّفَاقِ ، حَتَّى كَانَ الرَّجُلُ الْمَرِيضُ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ " .
399 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ .ابو بحریہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حمص کی مسجد میں داخل ہوا تو میری نظر ایک ایسے نوجوان پر پڑی جس کے گرد لوگ جمع تھے، اس کے بال گھنگھریالے تھے اور جب وہ گفتگو کرتا تو ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کے دہنِ مبارک سے نور اور موتی جھڑ رہے ہوں، میں نے دریافت کیا: ”یہ کون ہیں؟“ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کو یہ بات مسرور کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور امن و سلامتی کی حالت میں حاضر ہو تو اسے چاہیے کہ ان پانچوں نمازوں کی وہاں (باجماعت) ادائیگی کا اہتمام کرے جہاں ان کے لیے اذان دی جاتی ہے، کیونکہ یہ نمازیں ہدایت کے روشن راستوں میں سے ہیں اور ان طریقوں میں سے ہیں جنہیں تمہارے نبی ﷺ نے تمہارے لیے مشروع فرمایا ہے، اور کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ: ”میرے گھر میں میرا ایک مصلّٰی ہے جہاں میں نماز پڑھ لیتا ہوں“، کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم اپنے نبی ﷺ کی سنت کو ترک کر بیٹھو گے، اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا تو یقیناً تم گمراہی میں پڑ جاؤ گے؛ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں نے نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ہمیں اس حال میں دیکھا ہے کہ ان نمازوں سے صرف وہی شخص پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق بالکل واضح ہو، یہاں تک کہ صورتِ حال یہ ہوتی تھی کہ بیمار شخص کو بھی دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا تھا تاکہ اسے صف میں کھڑا کیا جا سکے۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے کہا: ہمیں عبد الاعلیٰ بن حماد نے حدیث بیان کی۔