المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ عبد الرحمن بن عوف رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا أَبُو الْمُعَلَّى الْجَزَرِيُّ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِأَصْحَابِ الشُّورَى : هَلْ لَكُمْ أَنْ أَخْتَارَ لَكُمْ وَانْقَضَى مِنْهَا ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ ، أَنَا أَوَّلُ مَنْ رَضِيَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَنْتَ أَمِينٌ فِي أَهْلِ السَّمَاوَاتِ ، أَمِينٌ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ .
( 171 ) وَحَدِيثُ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْبَسَهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " تَقَدَّمَ فِي اللِّبَاسِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شوریٰ کے ارکان سے کہا: ”کیا تم اس بات پر تیار ہو کہ میں تمہارے لیے (خلیفہ کا) انتخاب کر دوں اور میں خود اس معاملے (خلافت کی نامزدگی) سے باہر ہو جاؤں؟“ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جی ہاں، میں وہ پہلا شخص ہوں جو اس تجویز پر راضی ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «أَنْتَ أَمِينٌ فِي أَهْلِ السَّمَاوَاتِ ، أَمِينٌ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ» ”تم آسمان والوں میں بھی امین (امانت دار) ہو اور زمین والوں میں بھی امین ہو۔““
اور یہ حدیث: ”بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میں اسے دنیا اور آخرت میں زیب تن کروں گا۔“ کتاب اللباس میں پہلے گزر چکی ہے۔