المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ عبد الرحمن بن عوف رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأُوَلِ - قَالَتْ : غُشِيَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَشْيَةً حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهُ فَاضَتْ نَفْسُهُ ، فَخَرَجَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - إِلَى الْمَسْجِدِ تَسْتَعِينُ بِمَا أُمِرَتْ بِهِ مِنَ الصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : أَغُشِيَ عَلَيَّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : صَدَقْتُمْ ، إِنَّهُ جَاءَنِي مَلَكَانِ فَقَالَا : انْطَلِقْ نُحَاكِمْكَ إِلَى الْعَزِيزِ الْأَمِينِ ، فَقَالَ مَلَكٌ آخَرُ : أَرْجِعَنَاهُ ، فَإِنَّ هَذَا مِمَّنْ كُتِبَتْ لَهُ السَّعَادَةُ وَهُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِهِمْ ، وَسَيُمَتَّعُ بِهِ بَنُوهُ مَا شَاءَ اللهُ تَعَالَى ، فَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ شَهْرًا ثُمَّ مَاتَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ : قَالَ رَجُلَانِ مَلَكَانِ كَانُوا يَأْتُونَ فِي صُورَةِ الرِّجَالِ ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلا .. أَيْ : فِي صُورَةِ رَجُلٍ .حمید بن عبد الرحمن اپنی والدہ سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا (جو اولین مہاجرات میں سے تھیں) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی کی ایسی سخت کیفیت طاری ہوئی کہ لوگوں نے گمان کر لیا کہ ان کی روح پرواز کر گئی ہے، چنانچہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا مسجد کی طرف نکل گئیں تاکہ اس صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کریں جس کا (قرآن میں) حکم دیا گیا ہے۔ پھر جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے دریافت کیا: ”کیا مجھ پر غشی طاری ہوئی تھی؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، (بے ہوشی کے عالم میں) میرے پاس دو فرشتے آئے اور کہنے لگے: چلو! ہم تمہارا مقدمہ اس ہستی کے حضور لے چلیں جو نہایت غالب اور امانت دار ہے، تب ایک اور فرشتے نے کہا: انہیں واپس لے جاؤ، کیونکہ یہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے اس وقت سعادت لکھ دی گئی تھی جب وہ اپنی ماؤں کے پیٹ میں تھے، اور ابھی ان کی اولاد اللہ کی مشیئت کے مطابق ان سے نفع اٹھائے گی۔“ چنانچہ وہ اس واقعے کے بعد ایک ماہ تک بقیدِ حیات رہے اور پھر ان کا انتقال ہوا۔
ابو اسامہ کہتے ہیں کہ یہاں دو آدمیوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو انسانی شکل میں آئے تھے، جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا﴾ [سورة الأنعام: 9] یعنی: انسانی صورت میں۔