المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ عبد الرحمن بن عوف رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيِّنُ الصَّوْتِ ، لَيِّنُ الْقِرَاءَةِ ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنُهُ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ لَمْ يَكُنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَاضَتْ عَيْنُهُ فَقَدْ فَاضَ قَلْبُهُ .حضرمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں نہایت نرم آواز اور رقت آمیز لہجے میں قرآن مجید کی تلاوت کی، تو وہاں موجود حاضرین میں سے کوئی ایسا شخص باقی نہ رہا جس کی آنکھیں (تاثر سے) اشکبار نہ ہو گئی ہوں سوائے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر سیدنا عبد الرحمن بن عوف کی آنکھیں نہیں چھلکیں تو یقیناً ان کا دل (خوفِ الٰہی اور رقتِ قلبی سے) لبریز ہو چکا ہے“۔
تخریج و تحکیم: اس روایت کو امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے کیونکہ حضرمی رحمہ اللہ تابعی ہیں اور انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ کا مشاہدہ نہیں بیان کیا۔