المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أهل البيت صلوات اللَّهُ عَلَيْهِمْ باب: اہلِ بیت کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ : وَبَلَغَنِي أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - جَاءَهُ قَوْمٌ فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : وَيْحَكُمْ ، مَا أَكْذَبَكُمْ وَأَجْرَأَكُمْ عَلَى اللهِ تَعَالَى ، نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ صَالِحِي قَوْمِنَا ، وَحَسْبُنَا أَنْ نَكُونَ مِنْ صَالِحِي قَوْمِنَا .سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ خبر ملی کہ سیدنا علی بن حسین (امام زین العابدین) رضی اللہ عنہما کے پاس کچھ لوگ آئے اور انہوں نے آپ کی مبالغہ آمیز تعریف و ستائش کی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے! تم کتنے بڑے جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کس قدر نڈر اور بیباک ہو گئے ہو، ہم تو اپنی قوم کے محض چند نیک لوگوں میں سے ہیں، اور ہمارے لیے یہی بات کافی ہے کہ ہمیں اپنی قوم کے صالحین میں شمار کیا جائے۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث) میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں امام سفیان ثوری کا بلاغ ہے جس کی وجہ سے یہ منقطع ہے، تاہم امام زین العابدین کی مبالغہ آمیز مدح سرائی سے بیزاری اور کمالِ تواضع دیگر مستند شواہد سے ثابت ہے۔