المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أهل البيت صلوات اللَّهُ عَلَيْهِمْ باب: اہلِ بیت کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ أُثَالِ بْنِ قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ حَوْشَبٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَعَلَيْهَا الْهَيْبَةُ مُتَوَرِّكَةً الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي يَدِهَا بُرْمَةٌ لِلْحَسَنِ ، فِيهَا سَخِينٌ ، حَتَّى أَتَتْ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قُدَّامَهُ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَأَبُو حَسَنٍ ؟ قَالَتْ : فِي الْبَيْتِ ، فَدَعَاهُ فَجَلَسُوا جَمِيعًا يَأْكُلُونَ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : وَمَا سَامَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَكَلَ طَعَامًا قَطُّ وَأَنَا عِنْدَهُ إِلَّا سَامَنِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ - يَعْنِي : دَعَانِي إِلَيْهِ - فَلَمَّا فَرَغَ لَفَّهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهِ .
أَخْرَجَهُ مُخْتَصَرًا .ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی لختِ جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حاضرِ خدمت ہوئیں، ان پر وقار و ہیبت طاری تھی اور انہوں نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو اپنے پہلوؤں (کولہوں) پر اٹھایا ہوا تھا، ان کے ہاتھ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے مٹی کی ایک چھوٹی ہانڈی تھی جس میں گرم کھانا تھا، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچ گئیں، جب انہوں نے وہ ہانڈی آپ ﷺ کے سامنے رکھی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ابوحسن (سیدنا علی) کہاں ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”وہ گھر میں ہیں“، پس آپ ﷺ نے انہیں بلا لیا اور وہ سب مل کر کھانا کھانے بیٹھے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس دن نبی کریم ﷺ نے مجھے کھانے کی پیشکش نہ کی، حالانکہ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں آپ ﷺ کے پاس موجود ہوں اور آپ ﷺ نے کھانا کھایا ہو اور مجھے اس میں شرکت کی دعوت نہ دی ہو، پھر جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سب کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا۔
اسے مختصر طور پر روایت کیا گیا ہے۔