المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أهل البيت صلوات اللَّهُ عَلَيْهِمْ باب: اہلِ بیت کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَنَشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ آخِذٌ بِحَلْقَةِ الْبَابِ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ أَنْكَرَ أَنْكَرَ ، أَنَا أَبُو ذَرٍّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ، مَنْ دَخَلَهَا نَجَا ، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ .
3973 \ 2 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، ثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ هِلَالٍ ، أَخْبَرَنِي أَسْلَمُ الْمَكِّيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَائِمًا عَلَى الْبَابِ وَهُوَ يُنَادِي : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تَعْرِفُونِي ؟ مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا جُنْدُبٌ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبُو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ مَثَلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا ، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ ، وَإِنَّ مَثَلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ بَابِ حِطَّةٍ .
3973 \ 3 - أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .. فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ حَنَشٍ .سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حنش بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو کعبہ کے دروازے کا حلقہ تھامے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”اے لوگو! جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہی ہے، اور جو مجھے نہیں پہچانتا (وہ جان لے کہ) میں ابو ذر ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی سی ہے، جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پا لی اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“ دوسری سند میں ابو الطفیل سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو کعبہ کے دروازے پر کھڑے یہ پکارتے ہوئے دیکھا: ”اے لوگو! کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ جو مجھے جانتا ہے وہ تو جانتا ہے اور جو مجھے نہیں پہچانتا تو (جان لے کہ) میں جندب ہوں، اللہ کے رسول ﷺ کا صحابی اور میں ابو ذر غفاری ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال نوح (علیہ السلام) کی کشتی جیسی ہے، جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہا وہ غرق ہو گیا، اور بیشک تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال بابِ حطہ (بنی اسرائیل کے توبہ کے دروازے) کی مانند ہے۔“
اسے امام بزار نے حسن بن ابی جعفر، علی بن زید اور سعید بن مسیب کے طریق سے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں حنش کی حدیث کی طرح ہی الفاظ ذکر کیے ہیں۔