❮
❯
حدیث نمبر: 3958
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ أَيَّامًا لَمْ يَطْعَمْ طَعَامًا حَتَّى شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَطَافَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَازِلِ أَزْوَاجِهِ ، فَلَمْ يُصِبْ عِنْدَ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ شَيْئًا ، فَأَتَى فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ آكُلُهُ ، فَإِنِّي جَائِعٌ ؟ فَقَالَتْ : لَا وَاللهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بَعَثَتْ إِلَيْهَا جَارَةٌ لَهَا بِرَغِيفَيْنِ وَقِطْعَةِ لَحْمٍ ، فَأَخَذَتْهُ مِنْهَا ، فَوَضَعَتْهُ فِي جَفْنَةٍ لَهَا وَغَطَّتْ عَلَيْهَا ، وَقَالَتْ : وَاللهِ لَأُوثِرَنَّ بِهَذَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفْسِي وَمَنْ عِنْدِي ، وَكَانُوا جَمِيعًا مُحْتَاجِينَ إِلَى شُبْعَةِ طَعَامٍ ، فَبَعَثَتْ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَدْ أَتَى اللهُ تَعَالَى بِشَيْءٍ فَخَبَّأْتُهُ لَكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلُمِّي بِهِ ، فَأَتَتْهُ بِهِ فَكَشَفَ عَنِ الْجَفْنَةِ فَإِذَا هِيَ مَمْلُوءَةٌ خُبْزًا وَلَحْمًا ، فَلَمَّا نَظَرَتْ إِلَيْهَا بَهِتَتْ ، وَعَرَفَتْ أَنَّهَا بَرَكَةٌ مِنَ اللهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَحَمِدَتِ اللهَ تَعَالَى وَصَلَّتْ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدَّمَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآهُ حَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَقَالَ : مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا يَا بُنَيَّةُ ؟ فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، مِنْ عِنْدِ اللهِ ؛ إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ .
فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَقَالَ : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَعَلَكِ يَا بُنَيَّةُ ، شَبِيهَةً لِسَيِّدَةِ نِسَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَإِنَّهَا كَانَتْ إِذَا رَزَقَهَا اللهُ شَيْئًا فَسُئِلَتْ عَنْهُ قَالَتْ : مِنْ عِنْدِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ .
فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، ثُمَّ أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَحَسَنٌ ، وَحُسَيْنٌ ، وَجَمِيعُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَهْلُ بَيْتِهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ جَمِيعًا - حَتَّى شَبِعُوا ، وَبَقِيَتِ الْجَفْنَةُ كَمَا هِيَ ، قَالَتْ : فَأَوْسَعْتُ بِبَقِيَّتِهَا عَلَى جَمِيعِ جِيرَانِي ، وَجَعَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِيهَا بَرَكَةً وَخَيْرًا كَثِيرًا .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کئی روز تک فاقے سے رہے اور آپ نے کچھ تناول نہ فرمایا، یہاں تک کہ یہ بھوک آپ پر سخت شاق گزرنے لگی۔ آپ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کے گھروں میں تشریف لے گئے مگر کسی کے پاس بھی کھانے کو کچھ نہ پایا، پھر آپ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کوئی چیز ہے؟ کیونکہ میں سخت بھوک محسوس کر رہا ہوں۔“ انہوں نے عرض کیا: ”نہیں اللہ کی قسم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔“ جب آپ ﷺ ان کے پاس سے رخصت ہو گئے تو اسی دوران سیدہ کی ایک پڑوسن نے انہیں دو روٹیاں اور گوشت کا ایک ٹکڑا ہدیہ بھیجا۔ انہوں نے وہ ہدیہ لے لیا اور اسے اپنے ایک بڑے پیالے میں رکھ کر اوپر سے ڈھانپ دیا اور (دل میں) کہا: ”اللہ کی قسم! میں اس کھانے کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کو اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر ترجیح دوں گی“، حالانکہ وہ سب خود اس وقت فاقے سے تھے اور ایک ایک لقمے کے محتاج تھے۔ پھر انہوں نے سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا، پس جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو سیدہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ تعالیٰ نے غیب سے رزق کا انتظام فرما دیا ہے جسے میں نے آپ کے لیے سنبھال کر رکھا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹی! وہ لے آؤ۔“ پس جب وہ اسے لے کر آئیں اور پیالے سے کپڑا ہٹایا تو کیا دیکھتی ہیں کہ وہ پیالہ روٹیوں اور گوشت سے لبریز ہے۔ وہ اسے دیکھ کر ششدر رہ گئیں اور جان گئیں کہ یہ اللہ عزوجل کی طرف سے خاص برکت ہے، چنانچہ انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا، پھر وہ کھانا آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو اللہ کی حمد و ثنا کی اور دریافت فرمایا: ”اے میری پیاری بیٹی! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟“ سیدہ نے عرض کیا: ”اے اباجان! یہ اللہ کی طرف سے ہے؛ بے شک اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے“ ﴿إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [سورة آل عمران: 37]۔
پس آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور فرمایا: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَعَلَكِ يَا بُنَيَّةُ شَبِيهَةً لِسَيِّدَةِ نِسَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے اے میری پیاری بیٹی! بنی اسرائیل کی خواتین کی سردار (سیدہ مریم علیہا السلام) کے مشابہ بنایا“، کیونکہ جب اللہ انہیں کوئی رزق عطا فرماتا اور ان سے اس بابت پوچھا جاتا تو وہ بھی یہی کہتیں: ﴿هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ ۖ إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ [سورة آل عمران: 37]۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلاوا بھیجا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ، سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن، سیدنا حسین، نبی کریم ﷺ کی تمام ازواجِ مطہرات اور آپ کے پورے اہل بیت رضی اللہ عنہم نے وہ کھانا کھایا یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے، لیکن پیالہ جوں کا توں بھرا رہا۔ سیدہ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے وہ بچا ہوا کھانا اپنے تمام پڑوسیوں کو خوب تقسیم کیا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس میں بڑی برکت اور خیرِ کثیر پیدا فرما دی تھی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3958
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»