المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3957
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ أَصْدَقَ مِنْ فَاطِمَةَ غَيْرَ أَبِيهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، سَلْهَا فَإِنَّهَا لَا تَكْذِبُ .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے علاوہ کسی کو بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کلام اور گفتگو میں سچا نہیں پایا۔“ اور ان دونوں (سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما) کے مابین کسی معاملے میں کچھ (ناگواری یا اختلاف) پیدا ہوئی تو انہوں نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ خود ان سے دریافت فرما لیں کیونکہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتیں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں موجود راوی ثقہ ہیں۔