المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَجَاءَتْ تَمْشِي مِشْيَةَ أَبِيهَا ، فَحَدَّثَهَا فَبَكَتْ ، فَسُئِلَتْ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَقَالَتْ : لَا أُخْبِرُ بِسِرِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ أَخْرَجُوا مِنْ طَرِيقِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - نَحْوَهُ مُطَوَّلًا ، لَكِنْ لَيْسَ فِيهِ الْإِرْسَالُ ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ امْرَأَةً أُخْرَى .نبی کریم ﷺ کی بعض ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف (پیغام دے کر) بھیجا، چنانچہ وہ تشریف لائیں اور ان کے چلنے کا انداز بالکل اپنے والدِ گرامی ﷺ کی چال کے مشابہ تھا، پھر آپ ﷺ نے ان سے کوئی خفیہ گفتگو فرمائی تو وہ رونے لگیں، جب ان سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کا راز کسی کو بھی نہیں بتاؤں گی۔“
یہ سند صحیح ہے، اور محدثین نے امام شعبی کے طریق سے، وہ مسروق سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے ہم معنی ایک طویل روایت تخریج کی ہے، لیکن اس میں (کسی زوجہ مطہرہ کو) بھیجے جانے کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد کوئی دوسری زوجہ مطہرہ ہوں۔