المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3955
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا النَّضْرُ ، هُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، هُوَ ابْنُ دِينَارٍ ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ جَعْدَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ : إِنَّهُ كَانَ يُعْرَضُ عَلَيَّ الْقُرْآنُ فِي كُلِّ عَامٍ ، وَإِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ ، وَإِنِّي مَيِّتٌ فَبَكَتْ ، فَقَالَ : " إِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي .
هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ وُصِلَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ .ترجمہ
یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: ”بلا شبہ ہر سال مجھ پر قرآنِ مجید (جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے) پیش کیا جاتا تھا، لیکن اس سال مجھ پر قرآنِ کریم دو مرتبہ پیش کیا گیا ہے، اور میں یقیناً اب اپنی وفات کا وقت قریب پاتا ہوں“، یہ سن کر وہ (غم و اندوہ کی وجہ سے) رو پڑیں، تو آپ ﷺ نے (انہیں تسلی دیتے ہوئے) فرمایا: ”یقیناً تم ہی میرے اہل و عیال میں سب سے پہلے مجھ سے آ کر ملو گی۔“
یہ روایت مرسل ہے، البتہ دیگر طرق سے یہ متصل بھی روایت کی گئی ہے۔