المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَخْطِبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ النَّاسُ : أَتَرَوْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ نَاسٌ : وَمَا ذَلِكَ ؟ إِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ ، وَقَالَ نَاسٌ : لَيَجِدَنَّ مِنْ هَذَا ، يَتَزَوَّجُ ابْنَةَ عَدُوِّ اللهِ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنِّي لَا أَجِدُ لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَإِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي ؟ إِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَزَوَّجَ ابْنَةَ عَدُوِّ اللهِ عَلَى ابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
هَذَا مُرْسَلٌ ، وَأَصْلُ الْحَدِيثِ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَانْقَلَبَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ .سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ فرمایا، تو لوگوں نے (آپس میں چرچا کرتے ہوئے) کہا: ”کیا تمہارا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس بات سے (اپنے دل میں رنج و ملال) محسوس کریں گے؟“ بعض لوگوں نے کہا: ”ایسا کیوں ہوگا؟ وہ بھی تو عام عورتوں کی طرح ایک عورت ہی ہے“، جبکہ دوسرے لوگوں نے کہا: ”آپ ﷺ ضرور اس بات کو محسوس فرمائیں گے کہ اللہ کے دشمن کی بیٹی کو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کے ہوتے ہوئے (سوتن کے طور پر) نکاح میں لایا جائے“، چنانچہ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”حمد و ثنا کے بعد! ان لوگوں کا کیا حال ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میں (سیدہ) فاطمہ رضی اللہ عنہا (کی تکلیف) کو محسوس نہیں کروں گا؟ حالانکہ فاطمہ تو میرے ہی جسم و جگر کا ایک ٹکڑا ہے، یقیناً کسی کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ وہ اللہ کے دشمن کی بیٹی کو اللہ کے رسول کی بیٹی کی موجودگی میں نکاح میں لائے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور اس حدیث کی اصل صحیحین میں سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے موجود ہے، درحقیقت مسور رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ علی بن حسین رضی اللہ عنہما کو سنایا تھا، مگر راوی علی بن زید پر یہ الٹ گیا (یعنی اس نے سند میں وہم کیا اور اسے مرسل بیان کر دیا)، اور علی بن زید ضعیف الحفظ (کمزور حافظے والا) ہے۔