❮
❯
حدیث نمبر: 3953
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هُوَ ابْنُ عَائِشَةَ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَدِيجَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - خَيْرُ نِسَاءِ عَالَمِهَا ، وَمَرْيَمُ - عَلَيْهَا السَّلَامُ - خَيْرُ نِسَاءِ عَالَمِهَا ، وَفَاطِمَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - خَيْرُ نِسَاءِ عَالَمِهَا .
هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ طَرِيقِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - بِلَفْظِ : " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ، خَيْرُ نِسَائِهَا فَاطِمَةُ " .
وَهَذَا الْمُرْسَلُ يُفَسِّرُ هَذَا الْمُتَّصِلَ .
( 169 ) وَسَيَأْتِي - إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى - فِي الْفِتَنِ فِي ذِكْرِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَشْيَاءُ كَثِيرَةٌ .
( 170 ) وَحَدِيثُ أَبِي الْحَمْرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذِكْرِ أَهْلِ الْبَيْتِ وَفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - تَقَدَّمَ فِي تَفْسِيرِ الْأَحْزَابِ .
ترجمہ

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے (بطورِ مرسل) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے کی تمام خواتین میں سب سے بہتر ہیں، سیدہ مریم علیہا السلام اپنے دور کی تمام خواتین میں سب سے بہتر ہیں، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی تمام خواتین میں سب سے بہتر و برتر ہیں“۔
یہ روایت مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے، نیز امام ترمذی نے اسے عروہ کے واسطے سے، انہوں نے عبداللہ بن جعفر سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”ان میں سب سے بہترین خاتون مریم ہیں اور ان میں سب سے بہترین خاتون فاطمہ ہیں“۔
اور یہ مرسل روایت اس متصل سند والی حدیث کی تشریح و تفسیر کرتی ہے۔
(169) اور ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب الفتن میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ذکر میں مزید بہت سی احادیث آئیں گی۔
(170) جبکہ اہل بیت اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم کے تذکرے میں سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کی حدیث سورہ احزاب کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3953
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ طَرِيقِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - بِلَفْظِ : " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ، خَيْرُ نِسَائِهَا فَاطِمَةُ " . هَذَا الْمُرْسَلُ يُفَسِّرُ هَذَا الْمُتَّصِلَ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»