المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3951
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَنِيمٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُقْطَعُ الْأَسْبَابُ وَالْأَنْسَابُ وَالْأَصْهَارُ إِلَّا صِهْرِي ، فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا شِجْنَةٌ مِنِّي ، يَقْبِضُنِي مَا قَبَضَهَا ، وَيَبْسُطُنِي مَا بَسَطَهَا .ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے روز تمام اسباب، نسبی تعلقات اور سسرالی رشتے منقطع ہو جائیں گے سوائے میرے سسرالی رشتے کے، بے شک فاطمہ رضی اللہ عنہا «شِجْنَةٌ مِنِّي» ”میرے وجود کا ایک حصہ ہے“، جو چیز اسے غمزدہ کرتی ہے وہ مجھے بھی رنجیدہ کر دیتی ہے اور جو بات اسے خوشی پہنچاتی ہے وہ مجھے بھی شادمان کر دیتی ہے“۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبداللہ بن جعفر المخرمی ہیں اور یہ روایت دیگر مستند ذرائع سے بھی ثابت ہے۔