❮
❯
حدیث نمبر: 3949
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ ، عَنِ الْمِنْهَالِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَالَ : مَلَكٌ عَرَضَ لِي فَاسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي أَنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - شَبَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ .
ترجمہ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے ہمراہ مغرب کی نماز ادا کی، پھر آپ ﷺ (نفل) نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا اور آپ ﷺ نے وہ نماز پڑھائی، پھر جب آپ ﷺ مسجد سے باہر تشریف لے گئے تو میں بھی آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چل پڑا، اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے ایک فرشتہ ظاہر ہوا، اس نے اپنے رب سے مجھ پر سلام عرض کرنے اور مجھے یہ خوشخبری دینے کی اجازت طلب کی تھی کہ بے شک فاطمہ رضی اللہ عنہا اہل جنت کی تمام خواتین کی سردار ہیں، اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر نے روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام رجال مستند و معتبر ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3949
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 3781، وأخرجه مسند أحمد برقم: 22818، وأخرجه فتح الباري برقم: 1، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 5683، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 8607، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6765»