المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل فاطمة صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى أبيها وعليها رضي اللَّهُ عنها وَفَضْلِ ابنيها رضي اللَّهُ عنهما باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بیٹوں رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ ، عَنِ الْمِنْهَالِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَالَ : مَلَكٌ عَرَضَ لِي فَاسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي أَنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - شَبَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے ہمراہ مغرب کی نماز ادا کی، پھر آپ ﷺ (نفل) نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا اور آپ ﷺ نے وہ نماز پڑھائی، پھر جب آپ ﷺ مسجد سے باہر تشریف لے گئے تو میں بھی آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چل پڑا، اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے ایک فرشتہ ظاہر ہوا، اس نے اپنے رب سے مجھ پر سلام عرض کرنے اور مجھے یہ خوشخبری دینے کی اجازت طلب کی تھی کہ بے شک فاطمہ رضی اللہ عنہا اہل جنت کی تمام خواتین کی سردار ہیں، اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر نے روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام رجال مستند و معتبر ہیں۔