المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ خَالِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ إِذْ أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَاحْتَمَلَنِي عَلَى جَنَاحِهِ الْأَيْمَنِ ، فَأَدْخَلَنِي جَنَّةَ عَدْنٍ ، فَبَيْنَا أَنَا فِيهَا إِذْ رَقَبْتُ بِعَيْنَيَّ تُفَّاحَةً ، فَانْفَلَقَتِ التُّفَّاحَةُ نِصْفَيْنِ فَخَرَجَتْ مِنْهَا جَارِيَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ أَرَ أَحْسَنَ مِنْهَا حُسْنًا ، وَلَا أَكْمَلَ مِنْهَا جَمَالَا ، تُسَبِّحُ اللهَ تَعَالَى بِتَسْبِيحٍ لَمْ يَسْمَعِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِمِثْلِهِ ، قُلْتُ : مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ : أَنَا الْحَوْرَاءُ ، خَلَقَنِي رَبِّي جَلَّ جَلَالُهُ مِنْ نُورِ عَرْشِهِ ، قُلْتُ : لِمَنْ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : أَنَا لِلْأَمِينِ الْأَمْعَرِ الْخَلِيفَةِ الْمَظْلُومِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور مجھے اپنے دائیں بازو پر اٹھا لیا، پھر وہ مجھے جنتِ عدن میں لے گئے، وہاں قیام کے دوران اچانک میری نظر ایک سیب پر پڑی، وہ سیب دو حصوں میں منقسم ہو گیا اور اس میں سے ایک دوشیزہ برآمد ہوئی۔“ رسول اللہ ﷺ نے اس کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”میں نے حسن و خوبی میں اس سے زیادہ حسین اور جمال میں اس سے زیادہ کامل و اکمل کوئی نہیں دیکھی، وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی تسبیح و تقدیس بیان کر رہی تھی «تُسَبِّحُ اللهَ تَعَالَى بِتَسْبِيحٍ لَمْ يَسْمَعِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِمِثْلِهِ» ”جس کی مانند اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی نے کبھی نہیں سنی تھی۔“ میں نے اس سے دریافت کیا: ”تم کون ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں ایک حور ہوں، میرے رب جل جلالہ نے مجھے اپنے عرش کے نور سے پیدا فرمایا ہے۔“ میں نے پوچھا: ”تم کس کے لیے ہو؟“ اس نے عرض کیا: ”میں اس امانت دار، پیشانی کے دونوں اطراف سے کم بالوں والے اور مظلوم خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے ہوں۔“
اس حدیث کی سند میں موسیٰ بن ابراہیم نامی راوی ہے جو کہ ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک سخت ضعیف اور کذاب ہے، اسی بنا پر اس روایت کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔