المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرٍ الْفِهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُدَيْسٍ الْبَلَوِيِّ ، وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَقَعَ فِيهِ ، قَالَ أَبُو ثَوْرٍ : فَدَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَ عُدَيْسٍ قَالَ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَمِنْ أَيْنَ وَقَدِ اخْتَبَأْتُ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَشْرًا ؛ إِنِّي لَرَابِعُ أَرْبَعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ ، وَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ ثُمَّ ابْنَتَهُ ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَمَا سَتَرْتُ بِهَا ذَكَرِي ، وَلَا تَغَنَّيْتُ ، وَلَا تَمَنَّيْتُ ، وَلَا شَرِبْتُ خَمْرًا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ... الْحَدِيثَ .
قُلْتُ : عِنْدَ بَعْضِهِمْ بَعْضُهُ .سیدنا ابوثور فہری رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن عدیس بلوی رضی اللہ عنہ—جو ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعتِ رضوان کی تھی—سے روایت کرتے ہیں کہ وہ منبر پر چڑھے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور ان کی عیب جوئی کرنے لگے۔ ابوثور بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت حاضر ہوا جب وہ (اپنے گھر میں باغیوں کے ہاتھوں) محصور تھے، میں نے عرض کیا کہ ابنِ عدیس نے آپ کے بارے میں اس اس طرح کی باتیں کہی ہیں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ایسا کس بنیاد پر کہہ سکتا ہے جبکہ میں نے اللہ عزوجل کے پاس (اجر و ثواب کے لیے) دس ایسی فضیلتیں محفوظ کر رکھی ہیں؛ میں اسلام لانے والے ابتدائی چار افراد میں سے چوتھا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کیا اور پھر (ان کی وفات کے بعد) اپنی دوسری صاحبزادی کا نکاح بھی مجھ سے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر اپنے جس ہاتھ سے بیعت کی تھی (اس کی تکریم کی خاطر) میں نے کبھی اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا، میں نے کبھی گانا نہیں گایا، کبھی (کذب یا باطل کی) تمنا نہیں کی، اور نہ ہی میں نے کبھی دورِ جاہلیت میں یا اسلام لانے کے بعد شراب پی۔“
میں کہتا ہوں کہ اس روایت کا بعض حصہ دیگر محدثین کے پاس بھی مروی ہے۔