المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا بِالْكُوفَةِ شَهِدَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُتِلَ شَهِيدًا ، فَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ فَرَفَعُوهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالُوا : لَوْلَا أَنْ تَنْهَانَا أَوْ نَهَيْتَنَا أَنْ نَقْتُلَ أَحَدًا قَتَلْنَاهُ ، يَزْعُمُ أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَهِيدٌ .
فَقَالَ الرَّجُلُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَأَنْتَ تَشْهَدُ أَوْ تَذْكُرُ أَنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ، وَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .سیدنا محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کوفہ میں ایک شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہادت کا رتبہ پاتے ہوئے قتل ہوئے، جس پر وہاں کے سرکاری اہلکاروں نے اسے پکڑ لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے آئے اور عرض کی: ”اگر آپ نے ہمیں کسی کو بھی قتل کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم اسے ضرور قتل کر دیتے، یہ شخص یہ دعویٰ کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہیں۔“
اس پر اس شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا: ”اور آپ خود بھی اس بات کی گواہی دیں گے یا آپ کو یاد ہوگا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تھا تو آپ ﷺ نے مجھے عطا فرمایا تھا، پھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے نوازا تھا...“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
[مسند أبي يعلى: 3905]