المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
مناقب عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَجُلَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : قُتِلَ شَهِيدًا ، فَتَعَلَّقَهُ الْآخَرُ ، فَأَتَى بِهِ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : هَذَا يَزْعُمُ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُتِلَ شَهِيدًا ؟! فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَقُلْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَأَنْتَ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ، وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعْطَانِي ، وَسَأَلْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعْطَانِي ، وَسَأَلْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعْطَانِي ، وَسَأَلْتُكَ فَمَنَعْتَنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ اللهَ أَنْ يُبَارِكَ لِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا لَكَ أَلَّا يُبَارِكَ لَكَ وَقَدْ أَعْطَاكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : دَعُوهُ .ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا، تو ان میں سے ایک نے کہا: ”وہ شہید کر دیے گئے ہیں“، اس پر دوسرے نے اسے پکڑ لیا اور اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا اور عرض کی: ”یہ شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے ہیں؟!“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے پوچھا: ”کیا تم نے یہ بات کہی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں، کیا آپ کو وہ دن یاد نہیں جب میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور وہاں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنہم) اور آپ موجود تھے؟ میں نے نبی کریم ﷺ سے مانگا تو آپ ﷺ نے مجھے عطا فرمایا، میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مانگا تو انہوں نے بھی مجھے دیا، میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے مانگا تو انہوں نے بھی مجھے عطا فرمایا، میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے مانگا تو انہوں نے بھی مجھے نوازا، لیکن جب میں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے (کچھ) نہ دیا، پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! «ادْعُ اللهَ أَنْ يُبَارِكَ لِي» ”اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ میرے لیے برکت فرمائے“، تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: ”تمہیں برکت کیوں نہ حاصل ہو گی جبکہ تمہیں ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں نے عطا فرمایا ہے؟““ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“
کتاب المناقب، باب: مناقبِ عثمان رضی اللہ عنہ۔