المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - غَدَاةَ طُعِنَ ، فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي ، وَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَكُونَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ إِلَّا هَيْبَتُهُ ، كَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَسْتَقْبِلُ الصَّفَّ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ رَأَى إِنْسَانًا مُتَقَدِّمًا أَوْ مُتَأَخِّرًا أَصَابَهُ بِالدِّرَّةِ ، فَذَلِكَ الَّذِي مَنَعَنِي أَنْ أَكُونَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ ، فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي ، فَجَاءَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يُرِيدُ الصَّلَاةَ ، فَعَرَضَ لَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ غُلَامُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَنَاجَاهُ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - غَيْرَ بَعِيدٍ ، ثُمَّ تَرَكَهُ ، ثُمَّ نَاجَاهُ ، ثُمَّ تَرَكَهُ ، ثُمَّ نَاجَاهُ ، ثُمَّ تَرَكَهُ ، ثُمَّ طَعَنَهُ ، فَرَأَيْتُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَائِلًا بِيَدِهِ هَكَذَا ، يَقُولُ : دُونَكُمُ الْكَلْبَ فَقَدْ قَتَلَنِي ، فَمَاجَ النَّاسُ ، فَقَالَ قَائِلٌ : الصَّلَاةَ ، عِبَادَ اللهِ ، قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ : فَاحْتُمِلَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللهِ ، نَاوِلْنِي الْكَتِفَ ، فَلَوْ أَرَادَ اللهُ تَعَالَى أَنْ يُمْضِيَ مَا فِيهَا أَمْضَاهُ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَنَا أَكْفِيكَ ، أَمْحُوهَا ، فَقَالَ : لَا ، وَاللهِ لَا يَمْحُوهَا أَحَدٌ غَيْرِي ، فَمَحَاهَا عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِيَدِهِ ، وَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ الْجَدِّ ، ثُمَّ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : ادْعُوا لِي عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، وَطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدًا - يَرْضَى اللهُ عَنْهُمْ - ، قَالَ : فَدُعُوا ، فَلَمْ يُكَلِّمْ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَحَدًا مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا عَلِيًّا وَعُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، قَالَ : يَا عَلِيُّ ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ لَعَلَّهُمْ أَنْ يَعْرِفُوا لَكَ قَرَابَتَكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا أَعْطَاكَ اللهُ تَعَالَى مِنَ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ ، فَإِنْ وَلَّوْكَ هَذَا الْأَمْرَ فَاتَّقِ اللهَ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا عُثْمَانُ ، لَعَلَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ أَنْ يَعْرِفُوا لَكَ صِهْرَكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَفَكَ ، فَإِنْ وَلَّوْكَ هَذَا الْأَمْرَ فَاتَّقِ اللهَ ، وَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ ، ثُمَّ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا صُهَيْبُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ثَلَاثًا ، وَأَدْخِلْ هَؤُلَاءِ فِي بَيْتٍ ، فَإِذَا أَجْمَعُوا عَلَى رَجُلٍ ، فَمَنْ خَالَفَهُمْ فَلْيَضْرِبُوا رَأْسَهُ ، فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنْ وَلَّوُا الْأَجْلَحَ سَلَكَ بِهِمُ الطَّرِيقَ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَمَا يَمْنَعُكَ ؟ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَكْرَهُ أَنْ أَحْمِلَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا .
* هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ بِأَتَمَّ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ ، وَقَدْ تَوَخَّيْتُ مَا زَادَ عَلَيْهِ .سیدنا عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اس صبح موجود تھا جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا، میں دوسری صف میں کھڑا تھا اور مجھے پہلی صف میں کھڑے ہونے سے صرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت اور جلال ہی روکتا تھا، کیونکہ جب نماز کھڑی ہوتی تو آپ صف کی جانب رخ کرتے اور اگر کسی شخص کو صف سے آگے یا پیچھے دیکھتے تو اسے اپنے درے سے درست فرما دیتے، بس اسی بات نے مجھے پہلی صف میں کھڑے ہونے سے روکے رکھا اور میں دوسری صف میں تھا۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نماز کے ارادے سے تشریف لائے تو مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤہ آپ کے سامنے آ گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے قریب ہی کچھ سرگوشی کی پھر اسے چھوڑ دیا، دوبارہ سرگوشی کی پھر چھوڑ دیا، سہ بارہ سرگوشی کی اور پھر اسے چھوڑا، تب اس (بدبخت) نے آپ کو خنجر مارا، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے دیکھا، آپ فرما رہے تھے: ”دُونَكُمُ الْكَلْبَ فَقَدْ قَتَلَنِي“ ”اس کتے کو پکڑو، اس نے مجھے قتل کر دیا ہے“۔ پس لوگوں میں کھلبلی مچ گئی، تب کسی پکارنے والے نے پکارا: ”اے اللہ کے بندو! نماز کا وقت ہوا جاتا ہے، سورج طلوع ہونے والا ہے“، چنانچہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قرآن کریم کی دو مختصر ترین سورتوں ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] اور ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] کے ساتھ نماز پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا لیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اے عبداللہ (بن عمر)! مجھے وہ کندھے کی ہڈی (جس پر کچھ تحریر تھا) پکڑاؤ، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ اس میں لکھی بات کو نافذ کرنا چاہتا تو اسے نافذ فرما دیتا“، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں آپ کی طرف سے کفایت کرتا ہوں، میں اسے مٹا دیتا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم! میرے سوا کوئی اسے نہیں مٹائے گا“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا اور اس میں دادا کی وراثت کا حکم درج تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: ”میرے پاس علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد (رضی اللہ عنہم) کو بلا لاؤ“، راوی کہتے ہیں کہ انہیں بلایا گیا تو آپ نے ان میں سے سوائے سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے کسی سے کلام نہ فرمایا، آپ نے فرمایا: ”اے علی! شاید یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے آپ کی قرابت داری اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فقہ و علم کی وجہ سے آپ کا حق پہچان لیں، پس اگر یہ آپ کو اس معاملے (خلافت) کا والی بنائیں تو اس میں اللہ سے ڈرتے رہنا“، پھر فرمایا: ”اے عثمان! شاید یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کی دامادی اور آپ کی شرافت و بزرگی کو پہچان لیں، پس اگر یہ آپ کو اس معاملے کا والی بنائیں تو اللہ سے ڈرنا اور ہرگز بنو ابی معیط (اپنے رشتہ داروں) کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا“۔ پھر فرمایا: ”اے صہیب! تم تین دن تک لوگوں کو نماز پڑھاؤ اور ان (اربابِ شوریٰ) کو ایک گھر میں داخل کر دو، پھر جب یہ کسی ایک شخص پر متفق ہو جائیں تو جو ان کی مخالفت کرے اس کی گردن مار دینا“۔ جب وہ وہاں سے نکلے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر انہوں نے اس پیشانی سے بال اڑے ہوئے شخص (سیدنا علی) کو والی بنایا تو وہ انہیں سیدھے راستے پر لے جائے گا“، اس پر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”پھر آپ کو انہیں خلیفہ نامزد کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس (خلافت) کی ذمہ داری اپنی زندگی اور موت کے بعد (دونوں صورتوں میں) اٹھاؤں“۔
یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام بخاری نے اس سے زیادہ مکمل سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے اور میں نے یہاں ان زائد امور کا قصد کیا ہے جو وہاں موجود نہیں۔