المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَالْحَارِثُ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، دَخَلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، فَقَالَتْ : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ ، وَيَا صِهْرَ رَسُولِ اللهِ ، وَيَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : أَجْلِسْنِي يَا عَبْدَ اللهِ ، أَجْلِسْنِي ، فَلَا صَبْرَ لِي عَلَى مَا أَسْمَعُ ، فَأَسْنَدَهُ إِلَى صَدْرِهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ لَهَا : إِنِّي أُحَرِّجُ عَلَيْكِ لِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ أَلَّا تَنْدُبِينِي بَعْدَ مَجْلِسِكِ هَذَا ، وَأَمَّا عَيْنَيْكِ فَلَمْ أَمْلِكْهُمَا ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يُنْدَبُ بِمَا لَيْسَ فِيهِ ، إِلَّا الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ .سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ان کے پاس تشریف لائیں اور (فرطِ غم و محبت میں) پکارنے لگیں: ”اے اللہ کے رسول ﷺ کے جلیل القدر ساتھی! اے اللہ کے رسول ﷺ کے سسر! اور اے امیر المؤمنین!“ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اے عبداللہ! مجھے بٹھاؤ، مجھے سہارا دے کر بٹھاؤ، کیونکہ جو کلمات میں (اپنی تعریف میں) سن رہا ہوں انہیں مزید سننے کا مجھ میں اب حوصلہ نہیں ہے۔“ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سینے کا سہارا دے کر بٹھا دیا، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”میں تمہیں اس حق کا واسطہ دے کر پابند کرتا ہوں جو میرا تم پر واجب ہے کہ تم اس مجلس کے بعد مجھ پر ہرگز نوحہ و ماتم نہیں کرو گی، رہی بات تمہاری آنکھوں کی (یعنی اشکباری کی) تو ان پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے، (مگر یہ یاد رکھو کہ) حقیقت یہ ہے کہ جو بھی میت ایسی خوبیوں کے ساتھ یاد کر کے روئی جائے جو اس میں موجود نہ ہوں، تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام احمد بن منیع اور حارث نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔