المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ وَاصِلٍ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَأَتَيْتُهُ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الْبَابَ ، سَمِعْتُ نَحِيبَهُ ، فَقُلْتُ : اعْتُرِيَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، فَدَخَلْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ ، وَقُلْتُ : لَا بَأْسَ ، لَا بَأْسَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : بَلْ أَشَدُّ الْبَأْسِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَأَدْخَلَنِي الْبَابَ ، فَإِذَا حَقَائِبُ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ، فَقَالَ : الْآنَ هَانَ آلُ الْخَطَّابِ عَلَى اللهِ تَعَالَى ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ، لَوْ شَاءَ لَجَعَلَ هَذَا إِلَى صَاحِبَيَّ - يَعْنِي : النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَسَنَّا لِي فِيهِ سُنَّةً أَقْتَدِي بِهَا ، فَقُلْتُ : اجْلِسْ بِنَا نُفَكِّرْ ، اجْلِسْ بِنَا نُفَكِّرْ ، فَجَعَلْنَا لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ - أَرْبَعَةَ آلَافٍ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، وَجَعَلْنَا لِلْمُهَاجِرِينَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، وَلِسَائِرِ النَّاسِ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ .سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، میں ان کے پاس حاضر ہوا اور جب دروازے پر پہنچا تو میں نے ان کے زار و قطار رونے کی آواز سنی، میں نے (اپنے جی میں) کہا: شاید امیر المومنین کسی بڑی مصیبت کا شکار ہو گئے ہیں، چنانچہ میں اندر داخل ہوا اور ان کا کندھا پکڑ کر عرض کیا: «لَا بَأْسَ، لَا بَأْسَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ» ”کوئی گھبرانے کی بات نہیں، کوئی پریشانی کی بات نہیں اے امیر المومنین!“، انہوں نے فرمایا: ”بلکہ یہ تو شدید ترین آزمائش اور پریشانی کا مقام ہے“۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازے کے اندر لے گئے، تو وہاں مال و دولت کی ایسی گٹھڑیاں موجود تھیں جو ایک دوسرے کے اوپر تلے ڈھیر لگی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرمایا: ”اب خطاب کی اولاد اللہ تعالیٰ کی نظر میں بے وقعت ہوگئی ہے، اللہ عزوجل اگر چاہتا تو یہ سب کچھ میرے ان دو ساتھیوں“ یعنی نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ”کو عطا فرما دیتا، تو وہ میرے لیے اس مال کے معاملے میں کوئی ایسا طریقہ کار مقرر فرما دیتے جس کی میں پیروی کرتا“۔ میں نے کہا: ”آپ ہمارے ساتھ بیٹھیے ہم مل کر اس پر غور و فکر کرتے ہیں“، چنانچہ ہم نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے چار چار ہزار، مہاجرین کے لیے چار چار ہزار اور باقی تمام لوگوں کے لیے دو دو ہزار (درہم یا دینار) وظیفہ مقرر کر دیا۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم مال کی کثرت پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گریہ اور تقسیمِ اموال کا یہ واقعہ تاریخی طور پر مستند ہے۔