المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ثَوْبًا غَسِيلًا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ هَذَا أَمْ غَسِيلٌ ؟ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : غَسِيلٌ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْبَسْ جَدِيدًا ، وَعِشْ حَمِيدًا ، وَتَوَفَّ شَهِيدًا ، وَيُعْطِيكَ اللهُ قُرَّةَ عَيْنِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .
* هَذَا مُرْسَلٌ ، أَوْ مُنْقَطِعٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، وَأَخْرَجَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ دُونَ آخِرِهِ .قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک دھلا ہوا کپڑا ملاحظہ فرمایا تو دریافت کیا: ”کیا آپ کا یہ لباس نیا ہے یا محض دھلا ہوا؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ دھلا ہوا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں ان الفاظ میں دعا دی: «الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَتَوَفَّ شَهِيدًا، وَيُعْطِيكَ اللهُ قُرَّةَ عَيْنِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ”تم نیا لباس پہنو، قابلِ ستائش زندگی بسر کرو، شہادت کا رتبہ پاؤ اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمائے۔“
یہ روایت مرسل یا منقطع ہے، البتہ اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے متصل سند کے ساتھ بھی بیان کیا گیا ہے، اور امام احمد وغیرہ نے اس کے آخری حصے کے بغیر اس کی تخریج کی ہے۔