المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ حَمَّادِ ابْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَمَّارُ ، أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ آنِفًا ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، حَدِّثْنِي بِفَضَائِلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَوْ حَدَّثْتُكَ بِفَضَائِلِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - مِثْلَ مَا لَبِثَ نُوحٌ فِي قَوْمِهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا ، مَا نَفِدَتْ فَضَائِلُ عُمَرَ ، وَإِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - لَحَسَنَةٌ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عمار! ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے، تو میں نے ان سے کہا: اے جبریل! مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کریں۔ انہوں نے عرض کیا: اے محمد (ﷺ)! اگر میں آپ کو عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل اتنی طویل مدت تک بیان کرتا رہوں جتنی مدت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے درمیان مقیم رہے یعنی ﴿أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا﴾ [سورة العنكبوت: 14] ”ایک ہزار سال مگر پچاس سال کم“، تب بھی عمر کے فضائل ختم نہ ہوں گے، اور حقیقت تو یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تمام تر نیکیوں میں سے محض ایک نیکی ہیں۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ولید بن الفضل نامی راوی کذاب اور متروک ہے، اسی بنا پر محدثین نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔