المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : أَتَى أَهْلُ نَجْرَانَ عَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالُوا : نَسْأَلُكَ خَطَّكَ بِيَدِكَ ، وَشَفَاعَتَكَ بِلِسَانِكَ : أَنْ تَرُدَّنَا ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - رَشِيدَ الْأَمْرِ ، فَلَوْ طُعِنَ عَلَيْهِ يَوْمًا لَطُعِنَ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ .سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نجران کے لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”ہم آپ سے اس بات کے سائل ہیں کہ آپ اپنے دستِ مبارک سے ہمیں (اجازت نامہ) لکھ دیں اور اپنی زبان سے ہماری سفارش فرمائیں کہ آپ ہمیں (اپنے وطن) واپس بھیج دیں،“ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے معاملات کی تدبیر میں نہایت راست رو اور درست فکر کے مالک تھے، اگر کبھی کسی موقع پر ان کے فیصلے پر کوئی اعتراض کیا جانا ممکن ہوتا تو آج کے دن ضرور ان پر اعتراض ہو جاتا (یعنی ان کا فیصلہ ہر لحاظ سے مستحکم اور درست تھا جس میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی)۔“
امام مسدد رحمہ اللہ نے اس روایت کو بیان کیا ہے، نیز عبداللہ بن داؤد نے اسے اعمش سے اور انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے نقل کیا ہے۔