المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - جَاءَ ، فَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَرَ إِلَى خَتَنَتِكَ خَطَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَأَبَتْهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مَنَعَهَا مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ؟ مَا بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ - إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيٌّ - أَفْضَلَ مِنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : فَقُلْتُ لِلَّذِي حَدَّثَنِي : أَكَانَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے، پھر عرض گزار ہوئے: ”کیا آپ نے اپنی سالی (یا قریبی عزیزہ) کے معاملے پر غور نہیں فرمایا کہ انہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انہیں عمر (رضی اللہ عنہ) سے نکاح کرنے سے کس بات نے مانع رکھا؟ مدینہ منورہ میں کوئی بھی ایسا شخص موجود نہیں ہے—سوائے اس کے کہ وہ نبی ہو—جو عمر (رضی اللہ عنہ) سے زیادہ فضیلت والا اور بہتر ہو۔“ (ثابت بن حجاج کہتے ہیں کہ) میں نے اس شخص سے پوچھا جس نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی: ”کیا اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مدینہ میں موجود تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں اس بارے میں نہیں جانتا۔“
یہ روایت مسند الحارث (زوائد الہیثمی) میں موجود ہے، تاہم اس کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے جس کی وجہ سے یہ سنداً ضعیف ہے۔