المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فضائل عمر بن الخطاب رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : كُسِرَ بَعِيرٌ مِنَ الْمَالِ فَنَحَرَهُ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَدَعَا عَلَيْهِ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَوْ صَنَعْتَ هَذَا كُلَّ يَوْمٍ ، تَحَدَّثْنَا عِنْدَكَ ؟ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : لَا أَعُودُ لِمِثْلِهَا ، إِنَّهُ مَضَى لِي صَاحِبَانِ سَلَكَا طَرِيقًا ، فَإِنِّي إِنْ عَمِلْتُ بِغَيْرِ عَمَلِهِمَا ، سُلِكَ بِي غَيْرُ طَرِيقِهِمَا .سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ بیت المال کا ایک اونٹ زخمی (ٹانگ ٹوٹ گئی) ہو گیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے ذبح کر دیا، پھر انہوں نے اس کے گوشت پر نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدعو کیا، اس موقع پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کاش! آپ ہر روز اسی طرح (دعوت کا اہتمام) کرتے تاکہ ہم آپ کے پاس بیٹھ کر بات چیت کر لیا کرتے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «لَا أَعُودُ لِمِثْلِهَا» ”میں دوبارہ کبھی ایسا نہیں کروں گا، حقیقت یہ ہے کہ میرے دو رفیق (نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں جنہوں نے (زہد و قناعت کا) ایک مخصوص راستہ اختیار کیا تھا، پس اگر میں نے ان کے طرزِ عمل کے علاوہ کوئی اور کام کیا تو مجھے بھی ان کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر ڈال دیا جائے گا۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (34419) میں روایت کیا ہے۔