المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ابْنُ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَنَّاحٍ ، قَالَ : كَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ رَجُلًا صَدُوقًا صَمُوتًا ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : الْيَوْمَ تَنْطِقُ الْعَذْرَاءُ مِنْ خِدْرِهَا ، سَمِعْتُ عَمَّتِي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - تَقُولُ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ قَاطِبَةً ، وَاشْرَأَبَّ الْقَوْمُ ، وَعَادَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُمْ مِعْزَى طُيِّرَتْ فِي حَشٍّ ، فَوَاللهِ مَا اخْتَلَفُوا فِي لَفْظَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِفَنَائِهَا ، ثُمَّ ذَكَرَتْ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَتْ : وَمَنْ رَأَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَلِمَ أَنَّهُ خُلِقَ عَنَاءً لِلْإِسْلَامِ ، ثُمَّ قَالَتْ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : كَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَاللهِ أَحْوَذِيًّا ، نَسِيجَ وَحْدِهِ ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا ، مَا رَأَيْتُ مِثْلَ خُلُقِهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - حَتَّى تَعُدَّ سَبْعَ خِصَالٍ لَا أَحْفَظُهَا .
3880 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَاللهِ لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ مَا نَزَلَ بِأَبِي . .. فَذَكَرَهُ .
3880 \ 3 - وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ ، وَإِسْحَاقَ بْنِ بِشْرٍ .
كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ .
وَقَدْ تَبَيَّنَ بِرِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ تَقْصِيرُ عَبْدِ الْعَزِيزِ .موسیٰ بن مناح سے روایت ہے کہ قاسم بن محمد نہایت سچے اور خاموش طبع انسان تھے، جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو قاسم نے کہا: ”آج تو پردہ نشین دوشیزہ بھی اپنے حجرے سے بول اٹھے گی، میں نے اپنی پھوپھی اور نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو عرب کے قبائل مرتد ہو گئے، منافقت نے سر اٹھا لیا اور اصحابِ محمد ﷺ کی حالت (بے کسی میں) ایسی ہو گئی جیسے بارش والی سرد رات میں جھاڑیوں میں بھٹک جانے والی بکریاں ہوں، اللہ کی قسم! صحابہ جس مسئلے میں بھی اختلاف کرتے، میرے والد اس کی دشواری کو دور کر کے اسے حل فرما دیتے، پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور فرمایا: جس نے بھی عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ جان گیا کہ وہ اسلام کی خاطر تگ و دو اور مشقت اٹھانے کے لیے ہی پیدا کیے گئے تھے، پھر انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ نہایت مستعد، پھرتیلے اور اپنی مثال آپ تھے، انہوں نے ہر اہم معاملے کے لیے اس کے ہم پلہ تدبیر تیار کر رکھی تھی، میں نے ان کے اخلاق جیسا کسی کا اخلاق نہیں دیکھا، یہاں تک کہ انہوں نے ان کی سات خصلتیں شمار کرائیں جو مجھے یاد نہیں رہیں۔“
حارث نے یحییٰ بن ابی بکیر سے، انہوں نے عبدالعزیز بن عبداللہ سے، انہوں نے عبدالواحد بن ابی عون سے، انہوں نے قاسم سے روایت کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو اللہ کی قسم! اگر وہ صدمہ اور بوجھ جو میرے والد پر آن پڑا، وہ مضبوط و مستحکم پہاڑوں پر نازل ہوتا (تو وہ بھی اسے برداشت نہ کر سکتے)۔“
اسے احمد بن یونس اور اسحاق بن بشر نے بھی عبدالعزیز سے روایت کیا ہے، اور ابن ابی عمر کی روایت سے (دیگر روایات میں) عبدالعزیز کا اختصار یا کمی واضح ہو گئی ہے۔