المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ أبي بكر الصديق رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَقَدْ ضَرَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فَجَعَلَ يُنَادِي : وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ ؟ قَالُوا : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بِهِ ، وَفِي آخِرِهِ : الْمَجْنُونُ .
* صَحِيحٌ ، أَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ نُمَيْرٍ بِهِ ، وَاخْتَارَهُ الضِّيَاءُ ، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي الْبُخَارِيِّ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مشرکینِ مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس قدر زدوکوب کیا کہ آپ ﷺ پر بے ہوشی طاری ہوگئی، تب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور (مشرکین کو مخاطب کر کے) پکارنے لگے: ”تم پر ہلاکت ہو! ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ﴾ [سورة غافر: 28] کیا تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے؟“ مشرکین نے پوچھا: ”یہ (پکارنے والا) کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ ابن ابی قحافہ (ابوبکر صدیق) رضی اللہ عنہما ہیں۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے جس کے آخر میں ”الْمَجْنُونُ“ (یعنی وہ دیوانہ ہے) کے الفاظ کا اضافہ ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے، اسے امام حاکم نے ابن نمیر کے طریق سے روایت کیا ہے اور ضیاء مقدسی نے اس کا انتخاب کیا ہے، نیز اس کی تائید میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی روایت صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔